تہران اور ریاض کا سفارتی بحران خطے کو لپیٹ میں لیتا ہوا | حالات حاضرہ | DW | 04.01.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تہران اور ریاض کا سفارتی بحران خطے کو لپیٹ میں لیتا ہوا

سعودی عرب کے اتحادی ممالک بحرین اور سوڈان نے بھی ایران کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات معطل کردیے ہیں۔ دریں اثناء سعودی عرب نے ایران کی طرف سے آنے اور جانے والی تمام پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

ایران اور سعودی عرب کے مابین شروع ہونے والا حالیہ تنازعہ شدت کے ساتھ ساتھ وسعت بھی اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اب سعودی عرب کے اتحادی ممالک بحرین اور سوڈان نے بھی تہران حکومت کے ساتھ تمام تر سفارتی روابط معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ متحدہ عرب امارات نے بھی اس شیعہ ملک کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات میں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔

سعودی حکومت کی طرف شیعہ مذہبی رہنما نمر النمر کو سزائے موت دیے جانے کے بعد ایران میں ہوئے مظاہروں میں تہران کے سفارتخانے کو نقصان کے بعد ریاض نے بھی ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کر دیے تھے۔ ریاض اور تہران کے مابین اس نئے سفارتی بحران پر عالمی برداری نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

دریں اثناء ریاض حکومت نے تہران کے خلاف اپنے اقدامات مزید سخت کرتے ہوئے ایران کے ساتھ تمام تر فضائی رابطے منسوخ کر دیے ہیں۔ سعودی عرب کی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق انہیں ہدایات ملی ہیں کہ ایران سے آنے اور وہاں جانے والی تمام تر پروازیں منسوخ کر دی جائیں۔

بحرین اور متحدہ عرب امارات نے ایران پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خلیجی اور عرب ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ سوڈان نے کہا ہے کہ وہ ریاض حکومت کے ساتھ یکجہتی کے طور پر سفارتی تعلقات توڑ رہا ہے۔ بحرین کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق مناما حکومت نے ایرانی سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کے لیے اڑتالیس گھنٹے کا وقت فراہم کیا ہے۔

دریں اثناء متحدہ عرب امارات نے اپنے سفیر کو ایران سے واپس بلاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس نے تہران کے ساتھ اپنے سفارتی روابط میں کمی لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یو اے ای کے مطابق وہ اپنی سرزمین پر ایرانی سفارتکاروں کی تعداد میں بھی کمی لائے گا۔

ایران نے ریاض حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنے سفارتخانے پر حملے کو خطے میں ’’فرقہ ورانہ لڑائی کو ہوا دینے کے لیے استعمال‘‘ کر رہا ہے۔ دوسری جانب ایران اور عراق میں آج تیسرے روز بھی شیعہ مذہبی رہنما کی پھانسی کے خلاف احتجاج کیا گیا۔

دریں اثناء جرمن نائب چانسلر زیگمار گابریئل نے ریاض حکومت کو خبردار کیا ہے کہ برلن حکومت اس خلیجی ملک کو فوجی سازوسامان فراہم کرنے کی اپنی پالیسی پر نظر ثانی کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیدیوں کو بڑے پیمانے پر تختہ دار پر لٹکانے پر انہوں نے شدید تحفطات کا اظہار کرتے ہوئے تہران اور ریاض پر زور دیا ہے کہ وہ سفارتی کشیدگی کو نظر انداز کرنے کی کوشش کریں۔