1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

تہذیبوں کے مابین نہیں بلکہ جہالتوں کے مابین ٹکراؤ ہوتا ہے

اسلام اور مغرب کے مابین مکالمت پر مبنی پروگرام مشرق ومغرب کے لئے خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان میں اقوام متحدہ کے نمائندے فیاض باقر نے کہا کہ دراصل سیاسی مقاصد کے لئے منافرت پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے

default

دنیا میں شائد ہی کوئی ایسا ملک یا ریاست ہو ، جہاں تمام انسان اپنی فکر میں یکساں ہوں یا ایک ہی طریقے سے سوچتے ، سمجھتے اور عمل کرتے ہوں۔ ہر جگہ مختلف سماجی گروہوں میں بٹے ہوئے لوگ دکھائی دیتے ہیں جن کی بول چال، ثقافت، رہن سہن، نسل، سماجی و اقتصادی درجہ اور مذہب کے خانوں کے رنگ مختلف ہیں۔

انہی سماجی گروہوں میں منقسم لوگ ، قدرے پیچیدہ طریقے سےاپنے سے مختلف گروہوں سے تعلق رکھنے والےلوگوں سے ملتے ہیں اور ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔لیکن یہ معاملہ اس وقت اور زیادہ پیچیدہ ہو جاتا ہے جب تہذیبوں یا مذاہب کے مابین ٹکراو کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ نائین الیون یعنی امریکہ میں حملوں کے بعد جہاں بالخصوص اسلام اور مغرب کےمابین تناو میں اضافہ ہوا وہیں عالمی سیاست اور اقتصادیات کو رخ بھی بدل سا گیا۔ اور اس حقیقت پر گفتگو ہونا شروع ہوئی کہ کیا آیا واقعتا اس دنیا میں مختلف ارضیاتی حصوں میں بٹے لوگ ، اپنی تہذایب اور معاشرت میں کسی دوسرے گروہ سے کوئی مطابقت رکھتے ہیں یا نہیں ، اور کیا مطابقت نہ کھانے کی صورت میں تناو یا ٹکراؤ لہ کیفیت پید ا ہو سکتی ہے؟

اس گلوبلائزڈ دنیا میں ، ان سوالات کو ڈھونڈنے اور انہیں حل کرنے کےلئے بہت سے لوگوں نے بیڑہ اٹھایا، اور اس ضمن میں غیر سرکاری ادارے بھی سرگرم عمل ہیں پاکستان میں اقوام متحدہ کے نمائندے قیاض باقر نے ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دراصل تہذیبوں کے مابین ٹکراؤ ہرگز نہیں ہوتا بلکہ جہالتوں کے مابین ٹکراؤ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مذاہب صرف امن اور پیار کا پیغام دیتے ہیں اور انسان امن کے مترادف ہے۔ انہوں نے اپنے موقف پر دلالت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام سے دہشت گردی کو منسوب کرنا ہرگز جائز نہیں کیونکہ اسلام ، یہودیت اور عیسائیت ابراہیمی مذاہب ہیں اور ان کا تعلق بہت مضبوط ہے۔

DW.COM