1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

تہاڑ جیل میں اچھوتا منصوبہ، قیدیوں کے لیے ملازمتیں

بھارت کی ایک جیل نے نجی کمپنیوں کے ساتھ مل کر ایک ایسا منصوبہ شروع کیا ہے، جس کے تحت یہ کمپنیاں جیل کے قیدیوں کا انٹرویو کر کے انہیں ایسی نوکریاں فراہم کرتی ہیں، جو وہ اپنی سزا پوری کرنے کے بعد شروع کر سکتے ہیں۔

default

تہاڑ جیل کا ایک قیدی

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں واقع تہاڑ جیل میں قریب تیرہ ہزار قیدی اپنے اپنے جرائم کی سزائیں کاٹ رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ایشیا کی سب سے بڑی اس جیل میں بھارت کے خطرناک ترین مجرم بھی قید ہیں۔ اس جیل کے بارے میں آئے روز اخبارات میں کچھ نہ کچھ شائع ہوتا رہتا ہے۔ تاہم آج کل جس موضوع کی وجہ سے یہ جیل ذرائع ابلاغ میں سرخیوں کی زینت بنی ہوئی ہے، وہ کچھ مختلف ہے۔

اس جیل کی انتظامیہ نے نجی کمپنیوں اور کچھ بینکوں کے ساتھ مل کر قیدیوں کو حوصلہ اور امید دلانے کے لیے جو منصوبہ شروع کیا ہے، اسے نہ صرف قیدی بلکہ انسانی حقوق کے ادارے بھی داد و تحسین کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ باصلاحیت اور اہل قیدیوں کی بحالی کے لیے انہیں اس طرح کے موقع فراہم کرنے کا مقصد ان کے لیے ایک نئی زندگی شروع کرنے میں ان کی مدد کرنا ہے۔ اس جیل میں اب اکثر ہی مختلف کمپنیاں مختلف قیدیوں کے انٹرویو کرتی ہیں اور موقع پر ہی انہیں نوکری کی دعوت دے دی جاتی ہے، جو وہ اپنی سزائیں کاٹنے کے بعد شروع کر سکتے ہیں۔

Besuch im Tihar Prison im März 2011 Indien

تہاڑ جیل کا قیدی سندیپ بھٹناگر بائیں اور جیل سپرنٹنڈنٹ ایم کے دیودی

سندیپ بھٹناگر بھی انہی خوش قسمت قیدیوں میں سے ہیں، جنہیں جیل کے اندر ہی نوکری مل گئی۔ چالیس سالہ سندیپ پر بینک لوٹنے کا الزام ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’میں یہاں پانچ برسوں سے ہوں۔ میرے خلاف مقدمہ ابھی چل رہا ہے۔ میں نے یہاں تین، چار ملازمتوں کے لیے انٹر ویو دیے اور مجھے دو نوکریوں کی پیشکش بھی ہو گئی۔ یہ بہت اچھا ہے کہ جب آپ جیل سے چھوٹیں تو فوری طور پر آپ کے پاس کوئی نوکری ہو۔ جیل انتظامیہ کی طرف سے یہ ایک انتہائی اچھا اقدام ہے‘۔

جیل کے اندر ہی قیدیوں کی بحالی کا منصوبہ جیل سپرنٹنڈنٹ ایم کے دیودی کے ذہن میں آیا تھا۔ وہ کہتے ہیں، ’جب میں نے اس جیل میں سپرنٹنڈنٹ کا عہدہ سنبھالا تو میں نے دیکھا کہ ایسے قیدیوں کی تعداد بہت کم تھی ، جو پڑھنے کے لیے تیار تھے۔ تب میں نے سوچا کہ اگر لوگ جیل سے باہر تعلیم حاصل کر کے نوکریاں حاصل کر سکتے ہیں تو جیل کے اندر کیوں نہیں۔ اس خیال کے بعد میں نے اسے عملی شکل دینے کے لیے کام شروع کر دیا۔ اس حوالے سے میرے سٹاف اور قیدیوں کی طرف سے بہت اچھا ردعمل سامنے آیا۔ میں نےقیدیوں کو تعلیم دی اور اس طرح یہ منصوبہ کامیاب ہو گیا‘۔

اب اس جیل میں انفارمیشن ٹیکنالوجی سے لے کر کڑھائی، باورچی، بڑھئی اور بیوٹی پارلر تک کی تعلیم دی جاتی ہے اور قیدی بہت شوق کے ساتھ اپنے زندگیوں کو بدلنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس