1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

تھری ڈی ٹیلی وژن کی آمد آمد

تھری ڈائمینشنل یا سہ جہتی ٹیلی وژن چینلز کے منظرِ عام پر آنے کی رفتار سست ہے لیکن صنعتی شعبے کے ماہرین بہت پُر امید ہیں کہ دُنیا کے چھوٹی اسکرین دیکھنے کے رنگ ڈھنگ میں انقلابی تبدیلی آنے والی ہے۔

default

مارکیٹ ریسرچ گروپ In-Stat کے مطابق سن 2014ء تک سہ جہتی ٹی وی چینلز کی تعداد ایک سو کی حد کو عبور کر جائے گی۔ اِن میں خاص طور پر سپورٹس چینلز کے ساتھ ساتھ آرٹس، موسیقی کے بڑے بڑے پروگراموں اور فیچر فلموں والے چینلز بھی شامل ہوں گے۔

ونسینٹ تولاد ٹیکنالوجی اور میڈیا کنسٹلٹینٹ ہیں، اُن کا دفتر پیرس میں ہے اور وہ اُس MIPTV ٹریڈ شو میں شریک تھے، جو سات اپریل جمعرات کو فرانسیسی شہر کان میں اختتام پذیر ہوا۔ وہ کہتے ہیں: ’’جب ہم تین سال پہلے یہ کہتے تھے کہ تھری ڈی کو زبردست کامیابی ملے گی تو ہمیں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ لیکن اب تھری ڈی آن پہنچا ہے اور لوگوں کی بڑی تعداد اِسے جانتی ہے۔‘‘

تولاد نے بتایا کہ ہالی وُڈ فلموں سے ہونے والی آمدنی میں پچاس تا ستر فیصد حصہ 3D یعنی سہ جہتی فلموں کا ہے، اِس لیے بھی کہ سنیما گھر اِن فلموں کے ٹکٹ زیادہ مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں۔

اِس سال MIPTV ٹریڈ شو کے موقع پر سہ جہتی پروگراموں کی زیادہ بڑی تعداد بین الاقوامی سطح پر فروخت کے لیے پیش کی گئی۔ اِن پروگراموں میں جنگلی حیات اور سیرو سیاحت کے موضوع پر ہنگامہ خیز دستاویزی فلموں کے ساتھ ساتھ کارٹون اور سرکس شو وغیرہ بھی شامل تھے۔

Games Convention in Leipzig 2008

ایک بڑا سوال یہ بھی ہے کہ صارفین کتنی تیزی سے تھری ڈی ٹی وی سیٹ خریدیں گے

الیکٹرانک مصنوعات اور نشریاتی ذرائع کے کچھ ماہرین نے تھری ڈی ٹی وی کی کامیابی کے حوالے سے محتاط رہنے پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ اِس تکنیک کی کامیابی میں ابھی بھی کئی رکاوٹیں حائل ہیں۔ ایک رکاوٹ یہ ہے کہ ابھی بھی بہت کم تعداد میں تھری ڈی پروگرام تیار ہو رہے ہیں۔ دوسرے یہ کہ تھری ڈی چینلز شروع ہونے کی رفتار بھی ابھی کافی سست ہے۔

ایک بڑا سوال یہ بھی ہے کہ صارفین کتنی تیزی سے تھری ڈی ٹی وی سیٹ خریدیں گے۔ تھری ڈی کے لیے سونی کارپوریشن کے سینئر مینیجر اکیرا شمازُو نے کان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ یورپ اور امریکہ میں 3D ٹی وی سیٹ بہت بڑی تعداد میں فروخت ہونا شروع ہو چکے ہیں۔

MIPTV ٹریڈ شو کے ایک سیمینار میں شریک ماہرین کا کہنا تھا کہ جاپانی ادارہ سونی اِس سال تھری ڈی فلمیں بنانے والا ایک مووی کیمرہ بازار میں لا رہا ہے، جسے آسانی کے ساتھ ہاتھ میں اٹھایا جا سکتا ہے۔ یہ کیمرہ بھی تھری ڈی پروگراموں کی تیاری کے عمل کو تیز تر کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔

ایشیا میں تھری ڈی انقلاب کے سلسلے میں جنوبی کوریا قائدانہ کردار ادا کر سکتا ہے، جہاں آئندہ برس کے اواخر سے Analogue یا تمثیلی سگنلز کا روایتی طریقہء کار ختم کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس