1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تھائی وزير اعظم پر دباؤ ميں اضافہ

تھائی لينڈ میں گذشتہ ويک اينڈ پر فوج اور حکومت مخالف مظاہرين کے درميان خونيں تصادم کے بعد، جس ميں 21 افراد ہلاک اور 800 کے لگ بھگ زخمی ہوگئے تھے، وزير اعظم ابھيست ویجاجیوا پر دباؤ ميں مزید اضافہ ہوگيا ہے۔

default

تھائی اليکشن کميشن نے کل پیر کو وزير اعظم کی ڈيموکريٹک پارٹی کو کالعدم قرار دينے کی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے اس کے معاملات اٹارنی جنرل کے ذريعے ملکی سپريم کورٹ کے حوالے کردیے تھے۔ اس کارروائی کے نتيجے ميں عدالتی حکم کے تحت ابھيست ویجاجيوا کو برطرف کيا جا سکتا ہے۔ وہ انتخابات ميں دھاندلی کرنے والی اُس سابق حکومتی پارٹی کو کالعدم قرار دينے کے سپريم کورٹ کے فيصلے کے بعد دسمبر سن 2008 ميں برسر اقتدار آئے تھے، جس کو دوبارہ حکومت دلانے کے لئے مظاہرے ہو رہے ہيں۔ ابھيست ویجاجیوا کی ڈيمو کريٹک پارٹی پر غير قانونی طور پر عطیات وصول کرنے کا الزام ہے۔

تھائی لینڈ کے رائل انسٹيٹيوٹ کے ایک ماہر سياسيات لکھيت دھرا ويگن نے کہا: ’’سپريم کورٹ ميں ڈيموکريٹک پارٹی پر مقدمہ چلائے جانے کا نتيجہ لازمی طور پر پارٹی کے کالعدم قرار ديے جانے کی صورت میں ہی برآمد ہوگا۔ پارٹی کے خلاف پيش کردہ ثبوت بالکل واضح ہيں۔ اس کا مطلب ہے کہ ڈيموکريٹک پارٹی کالعدم قرار دے دی جائے گی اور اس کے چند ممتاز سياستدانوں پر پانچ سال تک سياست ميں حصہ لينے پر پابندی بھی عائد کر دی جائے گی۔ حقيقت يہ ہے کہ سياسی ديانتداری کی بنياد پر وزير اعظم کو مستعفی ہوجانا چاہيے۔‘‘

Flash-Galerie Thailand Politik

ہفتہ 10 اپریل کو پرتشدد مظاہروں میں 21 افراد ہلاک جبکہ 800 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

حکومت مخلف مظاہرين نے اليکشن کميشن کی طرف سے وزير اعظم کی ڈيموکريٹک پارٹی کو مالی عطيات ميں بدعنوانی کا مرتکب قرار ديتے ہوئے اس کو کالعدم قرار دينے کی سفارش پر خوشياں منائيں، ليکن ان کے ايک قائد وينگ توجيکاران نے کہا کہ بنکاک کے مرکزی حصے کی کئی ہفتوں سے جاری ناکہ بندی جاری رکھی جائے گی۔ وينگ نے کہا: ’’ہم ابھی اپنا احتجاج ختم نہيں کرنا چاہتے۔ ڈيمو کريٹک پارٹی پر پابندی کے مقدمے ميں کئی مہينے لگ سکتے ہيں اور کسے معلوم ہے کہ بالآخر نتيجہ کيا نکلے۔ ہم پارليمنٹ کو فوری طور پر تحلیل کر دینے کا مطالبہ کرتے ہيں۔ صرف اسی طرح تشدد کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔‘‘

دوسری طرف حکومت نے ويک اينڈ کے ہنگاموں کا فلمی مواد جاری کر ديا ہے، جس کا مقصد يہ دکھانا ہے کہ مظاہرين کی صفوں سے سيکيورٹی فورسز پر فائرنگ کی گئی تھی۔ تھائی وزير اعظم نے کہا: ’’جمہوريت کے لئے مظاہرہ کرنے والے بے گناہ تھائی مظاہرين میں ايک ايسا گروپ بھی شامل ہوگيا، جسے ہم بجا طور پر دہشت گردوں کا گروپ کہہ سکتے ہيں۔ اس گروہ کا مقصد صرف ہنگامے کرانا اور ملک کو درہم برہم کرنا ہے۔‘‘

دريں اثنا تھائی فوج کے سربراہ انو پونگ نے پارليمنٹ کو توڑنے اور نئے انتخابات کرانے کے لئے حکومت پر دباؤ ميں اضافہ کر ديا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلے کا سياسی حل نکالا جانا چاہیے۔ يہ گذشتہ ويک اينڈ پر مظاہرين کو بنکاک کے مرکزی علاقے سے باہر نکالنے کی ناکام فوجی کوشش اور اس دوران ہلاکتوں کے بعد ملکی فوج کے سربراہ کا منظر عام پر آنے والا پہلا بيان تھا۔ تاہم ايک معروف تھائی سياسی مؤرخ کاسرت سيری کا کہنا ہے کہ يہ واضح نہيں ہے کہ آیا فوج اس سلسلے ميں يک زبان ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چيف ريٹائر ہونے والے ہيں اور وہ نيک نامی سے ریٹائر ہونا چاہتے ہيں ليکن ان کے جانشين سميت دوسرے فوجی افسران کی رائے ان سے مختلف ہو سکتی ہے۔ تھائی لینڈ میں مظاہرین نے منگل کے روز ان فوجی بيرکوں کی جانب پيش قدمی کی دھمکی بھی دے دی، جہاں وزير اعظم ابھيست ویجاجیوا کئی دنوں سے مقيم ہيں۔

رپورٹ : شہاب احمد صدیقی

ادارت : مقبول ملک

DW.COM