1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تھائی مسلم باغیوں پر ہیومن رائٹس واچ کی شدید تنقید

انسانی حقوق کی بین لاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے تھائی لینڈ کے جنوبی صوبوں میں سرگرم مسلمان باغیوں پر شدید تنقید کی ہے۔

default

ان عسکریت پسندوں نے وہاں شہری اہداف پر اپنے خونریز حملوں میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران کافی اضافہ کر دیا ہے۔اس سال جنوری کے شروع سے جنوبی تھائی لینڈ میں ان مسلمان باغیوں کی طرف سے فائرنگ اور بم حملوں کے واقعات میں اب تک ایک درجن سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔

اس بارے میں ہیومن رائٹس واچ ایشیا کے ڈائریکٹر Brad Adams نے بنکاک میں کہا اس بات کا کوئی جواز نہیں ہے کہ شہری آبادی کو اندھا دھند فائرنگ اور دانستہ حملوں کا نشانہ بنایا جائے۔ بریڈ ایڈمز نے کہا کہ ان علیٰحدگی پسند مسلمان گروپوں کو اپنے طرز عمل پر لازمی طور پر غور کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ان عسکریت پسندوں کی موجودہ حکمت عملی قابل مذمت اور غیر قانونی ہے، جس کی کوئی بھی وضاحت نہیں کی جا سکتی۔

تھائی لینڈ کے جنوبی صوبوں Narathiwat، Pattani اور Yala میں مقامی آبادی کی اکثریت مسلمان ہے۔ وہ جنوری 2004 سے بہت خونریز کارروائیوں کا مرکز بن چکے ہیں۔ تب سے وہاں پر مسلمان علیٰحدگی پسندی کی طویل تحریک اور بھی عسکریت پسندانہ ہو چکی ہے۔

Gewaltwelle in Südthailand

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق ان تھائی صوبوں میں گزشتہ سات برسوں کے دوران قریب چار ہزار چار سو افراد مارے جا چکے ہیں، جن میں سے 90 فیصد عام شہری تھے۔

گزشتہ برس دسمبر میں تھائی وزیر اعظم ویجا جیوا نے یہ کہا تھا کہ ان جنوبی صوبوں کو طویل عرصے تک نظر انداز کیا گیا تاہم اب وہاں سلامتی کی صورت حال مستحکم ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ حکومت ان علاقوں کی ترقی کے لیے اقتصادی بہتری کی ایک نئی پالیسی بھی متعارف کرا چکی ہے۔

ویجا جیوا کے ان بیانات کے بعد ہی وہاں مسلمان باغیوں نے اپنے حملے ایک بار پھر تیز کر دیے تھے۔اتوار کو تھائی صوبے یالا کے اسی نام کے ایک شہر میں ایک بڑا بم حملہ کیا گیا تھا۔ اس حملے میں سترہ افراد زخمی ہوئے تھے اور بہت سی دکانیں تباہ ہو گئی تھیں۔

اس سے پہلے دس فروری کو تین تھائی شہریوں کو قتل کر کے ان کی لاشیں جلادی گئی تھیں۔ قبل ازیں تین فروری کو بھی صوبہ پٹانی میں پانچ بدھ مت سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو گولی مار دی گئی تھی۔ اس سے پہلے پچیس جنوری کو یالا میں سڑک کے کنارے نصب کیے گئے ایک بم کے پھٹنے سے نو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ جنوبی تھائی لینڈ میں دانستہ طور پر بدھ مت کی پیروکار مقامی آبادی کو ڈرایا جا رہا ہے۔ اس تنظیم کے مطابق اس کا مقصد یہ ہے کہ تھائی حکام کو نا قابل اعتماد ثابت کیا جائے، بدھ مت کے ماننے والوں کو ڈرا کر وہاں سے رخصتی پر مجبور کیا جائے اور مقامی مسلمان آبادی کو وہیں پر لیکن اپنے کنٹرول میں رکھا جائے۔

تھائی لینڈ کے ان تین جنوبی صوبوں کی مجموعی آبادی دو ملین کے قریب ہے۔ اس میں سے 80 فیصد مسلمان ہیں۔ یوں اکثریتی طور پر بدھ مت کے ماننے والوں کے ملک تھائی لینڈ کا جنوبی حصہ واحد علاقہ ہے جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔

سن دو ہزار چار سے وہاں سے تین لاکھ کے قریب بدھ شہری دوسرے علاقوں کی طرف نقل مکانی کر چکے ہیں۔ تھائی لینڈ کا یہ علاقہ ماضی میں ایک آزاد مسلمان سلطنت تھا، جس پر بنکاک نے دو سو سال پہلے ہونے والی ایک جنگ میں فتح کے بعد قبضہ کر لیا تھا۔ اس علاقے میں مقامی آبادی کی ثقافتی، لسانی اور مذہبی روایات ہمسایہ ملک ملائیشیا کے مسلمانوں کے طرز زندگی سے بہت ملتی جلتی ہیں۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: کشور مصطٰفی

DW.COM

ویب لنکس