1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تھائی مسجد میں حملہ: فوجی سربراہ کا دورہ

تھائی لینڈ کی فوج کے سربراہ نے ایک مسجد میں ہونے والے حملے کے نتیجے میں گیارہ افراد کی ہلاکت کا الزام مسلمان علیحدگی پسندوں پر عائد کیا ہے۔ فوجی سربراہ نے اس حملے میں فوج کے ملوث ہونے کے الزام کو بھی مسترد کر دیا۔

default

فوجی سربراہ نے جائے واقعہ کا دورہ کیا

حکومت کی جانب سے فوجی سربراہ کو احکامات دئے گئے تھے کہ وہ ذاتی طور پر جائے وقوعہ کا دورہ کریں۔ جنرل انوپونگ پاؤجندا نے حملے کا نشانہ بننے والی مسجد کے دورے کے موقع پر کہا کہ علیحدگی پسند دہشت گردانہ کارروائیوں کا الزام فوج پر عائد کرنے کے لئے ایسے بہیمانہ اقدامات کر رہے ہیں۔ ’’وہ یقینی طور پر اس معاملے کو بین الاقوامی طور پر اچھالنا چاہتے ہیں۔ وہ اس واقعے میں فوجی ہاتھ بتانا چاہتے ہیں تاکہ پوری دنیا کو لگے کہ سیکیورٹی فورسز اس علاقے میں رہنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں مصروف ہیں۔‘‘

جنرل پاؤجندا نے کہا کہ عسکریت پسند اس حملے کے بعد اس علاقے میں رہنے والے عام لوگوں کو ڈرا دھمکا کر سیکیورٹی دستوں پر جھوٹے الزامات لگا رہے ہیں۔

تھائی لینڈ میں پیر کے روز ایک مسجد میں نقاب پوش افراد نے فائرنگ کر کے گیارہ مسلمانوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ مقامی باشندوں کا الزام ہے کہ اس حملے میں ملکی سیکیورٹی فورسز ملوث ہیں جو ایسے واقعات سے مسلم علیحدگی پسندوں کو بدنام کرنا چاہتی ہیں۔

تھائی لینڈ کے انتہائی جنوب میں واقع صوبہ کے ضلع چوآئی رونگ میں حملے کی جگہ کے دورے کے بعد ملکی فوج کے سربراہ جنرل پاؤجندا نے علاقائی فوجی کمانڈروں اور اعلیٰ پولیس حکام سے بھی ملاقاتیں کی۔ اس سے قبل تھائی لینڈ کے وزیر اعظم ابھیسیت ویجاجیوا نے پیر کی شام ہونے والے اس حملے کے بعد اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ بنکاک حکومت علاقے میں امن عامہ کے قیام کے لئے ہر ممکن کوشش کرے گی۔ ’’مجھے پرتشدد کارروائیوں پر شدید تشویش ہے جن میں اب تک بہت سے بے گناہ شہری مارے جا چکے ہیں اور کئی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ہم اس مسئلے کو فوری حل کریں گے ورنہ عسکریت پسند ایسی کارروائیوں کے مرتکب ہوتے رہیں گے۔‘‘

اس علاقے کے رہائشی قریب ایک ہزار افراد اس واقعے کے بعد متاثرہ مسجد کے باہر جمع ہوئے۔ متعدد رہائشیوں نے اس حملے میں سیکیورٹی فورسز کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔ اس تھائی صوبے میں مسلم کونسل کے سربراہ نے ایک بین الاقوامی خبر ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا : ’’مجھے معلوم نہیں کہ یہ حملہ کس نے کیا۔ میں حکام کی جانب سے اس کی ایسی چھان بین چاہتا ہوں جو لوگوں کو مطمئن کر سکے اور ان کے شکوک و شبہات دور کرسکے۔‘‘

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : مقبول ملک