1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تھائی لینڈ کی پہلی نومنتخب خاتون وزیر اعظم

اس ہفتے تھائی لینڈ کی پہلی خاتون وزیراعظم کا نام ایشیائی خواتین کی اس طویل فہرست میں شامل ہو جائے گا، جنہیں اقتدار ان کے خاندانی پس منظر کی وجہ سے ملا ہے۔

default

نو منتخب تھائی وزیراعظم ینگلُک شناواترا اس انتخاب سے پہلے ایک غیر معروف کاروباری شخصیت تھیں۔ ان کی کامیابی میں ان کے جلا وطن بھائی اور سابق وزیراعظم تھاکسن شناواترا کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ تھاکسن شناواترا کی جانب سے ان کی پُوئیا تھائی پارٹی کی سربراہی کی توثیق کے بعد ان کی حمایت میں زبردست اضافہ ہوا تھا۔ دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم سری لنکا کی سری ماوو بندارانائیکا تھیں، جو 1960ء میں اپنے شوہر کے قتل کے بعد ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم بننی تھیں۔

بھارت کی اندرا گاندھی کو سیاسی قیادت وراثت میں اپنے والد جواہر لال نہرو سے ملی تھی۔ اسی طرح پاکستان میں بھٹو خاندان کی مثال دی جاتی ہے۔ بے نظیر بھٹو کے سیاسی قائد ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو تھے۔ انڈونشیا سے میگا وتی سوکارناپتری کا نام بھی اسی فہرست میں شامل ہے۔

Thailand Thaksin Shinawatra Flash

نومنتخب وزیر اعظم کے بھائی تھاکسن شناواترا سابق وزیر اعظم رہ چکے ہیں

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس خطے میں صنفی مساوات کے رجحان کا تعلق سیاسی خاندانوں کی وجہ سے ہے۔ تھائی لینڈ کے شہر چیانگ مائی کی یونیورسٹی کے سینئر ریسرچ فیلو پال چیمبر کا کہنا ہے ’’ایشیا میں روایتی مردانہ سوچ پائی جاتی ہے اس وجہ سے یہاں خواتین کو لیڈر بننا ایک غیر معمولی بات ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا ہے کہ ایسی سیاسی جماعتیں جن پر ماضی میں امیر خاندانوں کا غلبہ ہوتا تھا، انہوں نے بھی سیاسی میدان میں خواتین کو آگے لانا شروع کر دیا ہے۔

سنگاپور منیجمنٹ یونیورسٹی شعبہ پولیٹکل سائنس کی ایسوسی ایٹ پروفیسربریج ویلش کے مطابق موجودہ پاکستانی صدر آصف علی زرداری بھی اپنی اہلیہ بےنظیر بھٹو کی وجہ ہی سے اقتدار میں ہیں۔ ایشیا میں خواتین لیڈرز کی بہت کمی ہے اور جو اقتدار میں ہیں وہ کسی اور وجہ سے ہیں۔

تھائی لینڈ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ینگلک نوجوانوں میں بہت مقبول ہیں اور یہی ان کی کامیابی کا راز ہے۔ پال چمیبر کا کہنا ہے کہ ایشیا میں خواتین کے سیاست میں آنے کے رجحان میں شدید اضافہ ہوا ہے اور اس سے قبل کبھی بھی اتنی بڑی تعداد میں خواتین سیاسی میدان میں موجود نہیں تھیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس خطے میں ان کا مستقبل تابناک ہے۔

رپورٹ: سائرہ ذوالفقار

ادارت: عدنان اسحق

DW.COM