1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تھائی لینڈ کا کمبوڈیا سے سرحدی تنازعہ: فائر بندی پر اتفاق

تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان ایک ہفتے سے جاری خونریز سرحدی تنازعے میں دونوں ملکوں کے فوجی کمانڈروں کے درمیان جمعرات کو ایک فائر بندی معاہدے پر اتفاق ہو گیا۔

default

فائر بندی معاہدے کے بعد لی گئی تھائی کمبوڈین بارڈر کے قریب موجود ایک تھائی فوجی کی تصویر

اس خونریز تنازعے کے دوران ان دونوں ہمسایہ ملکوں کے فوجی دستوں کے درمیان گزشتہ جمعہ کو شروع ہونے والی جھڑپوں میں فائر بندی سے پہلے تک کم از کم 15 افراد مارے گئے۔ مرنے والوں میں سے 14 اطراف کے فوجی تھے اور ایک عام شہری۔ اس کے علاوہ یہ کئی روزہ سرحدی جھڑپ 60 کے قریب افراد کے زخمی ہونے کا باعث بھی بنی۔

Thailand Kambodscha Konflikt Flüchtlinge

تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان کئی روزہ خونریز سرحدی تنازعے سے متاثرہ مقامی باشندے

اس اتفاق رائے سے پہلے آج جمعرات ہی کو تھائی لینڈ نے کمبوڈیا کے مسلح دستوں کے خلاف فوجی کامیابی کے لیے اپنے مزید تازہ دم دستے بھی کمبوڈیا کے ساتھ اپنی سرحد پر بھیج دیے تھے۔

فائر بندی معاہدے کے بعد بنکاک میں تھائی وزیر اعظم ابھیسیت ویجاجیوا نے کہا کہ دونوں ملکوں کے فوجی کمانڈروں کے درمیان جس جنگ بندی پر اتفاق ہوا ہے، وہ ’دونوں ریاستوں کے لیے ایک اچھا اشارہ‘ ہے۔ لیکن تھائی لینڈ کے وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ بنکاک حکومت اس بات پر اچھی طرح نظر رکھے گی کہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب تھائی کمبوڈین بارڈر پر حالات کیسے رہتے ہیں۔

بنکاک میں تھائی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ آج کے فائر بندی معاہدے سے قبل فریقین کے درمیان صبح ہی سے چار مختلف سرحدی علاقوں میں دوبارہ نئی شدید جھڑپیں شروع ہو گئی تھیں۔ پھر دونوں ملکوں کے علاقائی فوجی کمانڈروں کی ایک ملاقات میں ایک دوسرے پر حملے روک دینے پر اتفاق ہو گیا۔

Thailand Kambodscha Konflikt Flüchtlinge

لڑائی کی وجہ سے بے گھر ہو جانے والے ہزار ہا انسانوں میں سے چند خواتین اور ان کے بچے

بعد میں ان علاقائی فوجی کمانڈروں کو اپنے اپنے ملکوں کی اعلیٰ ترین فوجی قیادت کو اس بارے میں تفصیلات سے آگاہ کرنا تھا۔ اس بریفنگ کے بعد اس حوالے سے تھائی لینڈ یا کمبوڈیا کی فوجی قیادت کی طرف سے نئے سرے سے کچھ نہیں کہا گیا۔

اس سات روزہ خونریز جنگ میں دونوں فریق ایک دوسرے پر فوجی جارحیت میں پہل کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا دونوں ہی جنوب مشرقی ایشیائی ملکوں کی تنظیم آسیان کے رکن ہیں، جس کا موجودہ سربراہ ملک انڈونیشیا ہے۔ اس فائر بندی کو ممکن بنانے کے لیے آسیان کی طرف سے ثالثی کوششوں کی ذمہ داری انڈونیشیا ہی کو سونپی گئی تھی۔

Thailand Kambodia Grenzkonflikt Soldat verletzt

ایک زخمی تھائی فوجی کو علاج کے لیے ہسپتال روانہ کیا جا رہا ہے

اس لڑائی کی وجہ سے دونوں ملکوں کے متاثرہ سرحدی علاقوں سے کل 60 ہزار سے زائد شہری اپنی جانیں بچانے کے لیے اپنے گھروں سے رخصت ہو گئے تھے۔ یہ مسلح تنازعہ 11 ویں صدی میں تعمیر کردہ ایک قدیم مندر کی ملکیت پر شروع ہوا تھا، جسے سن 2008 میں یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرتے ہوئے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ یہ کمبوڈیا کی ملکیت ہے۔

تھائی حکومت کے مطابق اس تنازعے میں شدت یونیسکو کے مبینہ طور پر متنازعہ فیصلے کی وجہ سے بھی پیدا ہوئی۔ بنکاک حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ قدیم مندر اور اس کے ارد گرد 4.6 مربع کلومیٹر کا علاقہ تھائی لینڈ کی ملکیت ہے۔ اسی تنازعے کی وجہ سے تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان بین الاقوامی سرحد کے تعین کا معاملہ گزشتہ پانچ عشروں سے طے نہیں ہوا۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس