1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

تھائی لینڈ میں ’کاروبار‘ کے فروغ کے لیے ٹیکس رعایت

تھائی لینڈ میں حکومت نے حمام اور ’کاراؤکے‘ بار کے مالکان کو ٹیکس میں رعایت دینے کا اعلان کیا ہے۔ بنکاک حکومت اس سال کے اختتام تک تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینا چاہتی ہے۔

محصولات کے تھائی محکمے نے اعلان کیا ہے کہ ملکی تاجروں کو مخصوص اشیاء خریدنے پر ٹیکس کی مد میں پندرہ ہزار باتھ تک کی چھوٹ دی جائے گی تاہم انہیں یہ خریداری  گیارہ نومبر اور تین دسمبر کے درمیان کرنا ہو گی۔ اس محکمے کی نائب ڈائریکٹر پاٹریسیا مونخووانت کے بقول امید ہے کہ اس رعایت کی وجہ سے اس عرصے کے دوران 680 ملین کی اضافی چیزیں خریدی جائیں گی۔ اس سے قبل فوجی حکومت دکانداروں کو بھی ٹیکس میں اسی طرح کی چھوٹ دی چکی ہے۔

باتھ ہاؤسز یا حمام میں عام طور پر خواتین ہی مالش کرتی ہیں اور نہلانے کی سروس مہیا کرتی ہیں لیکن درپردہ یہ جگہیں جسم فروشی کے اڈوں کے طور پر ہی کام کر رہی ہوتی ہیں۔

تھائی لینڈ میں جسم فروشی پر پابندی ہے تاہم قانون پرعمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے تھائی لینڈ میں ’سیکس انڈسٹری‘ مسلسل پروان چڑھ رہی ہے۔ تھائی لینڈ میں جسم فروشی یا اس سے منسلک صنعت 1970ء کی دہائی میں قائم ہوئی تھی۔ اس کا مقصد ویتنام جنگ میں مصروف امریکی فوجیوں کو ایک طرح سے سہولت فراہم کرنا تھا۔

تھائی لینڈ: سیاحوں کی جنت میں خطرات بڑھتے جا رہے ہیں

’تھائی لینڈ حلال مصنوعات کا مرکز بنے گا‘

ہم جنس پرستوں کی شادی، چینی معاشرہ بھی متاثر ہو سکتا ہے

تھائی لینڈ میں جسم فروشی کا کام کرنے والے افراد کی اصل تعداد کا تو علم نہیں ہے تاہم غیر سرکاری تنظیموں کے مطابق تین لاکھ سے زائد مرد و خواتین یہ کام کر رہے ہیں۔

DW.COM