1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تھائی لینڈ میں سیاسی بحران کے خاتمے کا امکان

جنوب مشرقی ایشیائی ملک تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں سرخ شرٹس مظاہرین کے مؤقف میں لچک سے بحران کی کیفیت ختم ہونے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ اپوزیشن مظاہرین حکومت کے ساتھ بات چیت پر آمادہ ہو گئے ہیں۔

default

بینکاک کے وسطی اور مرکزی علاقے سے ’ریڈ شرٹس‘ مظاہرین کی واپسی کا تاحال کوئی مثبت اشارہ تو سامنے نہیں آیا ہے، لیکن معزول وزیر اعظم تھاکسن شناوترا کے حامیوں کا موجودہ وزیر اعظم وجے جیوا کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی کو اُن کے مؤقف میں تبدیلی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ اگلے ایک دو روز میں ایک ماہ سے جاری دھرنوں اور مظاہروں کا سلسلہ بھی ختم ہو سکتا ہے۔

’یونائٹڈ فرنٹ فار ڈیموکریسی‘ کے مظاہرین اپنے جلا وطن رہنما اور سابق وزیر اعظم تھاکسن شناوترا کے حامی ہیں۔ اس گروپ میں بیشتر افراد کا تعلق ’ورکنگ کلاس‘ سے ہے۔ یہ اتحاد تھائی لینڈ میں فوری طور پر نئے انتخابات کا مطالبہ کر رہا ہے۔ یونائیٹڈ فرنٹ نے موجودہ وزیر اعظم کی جانب سے مصالحتی عمل کی تائید بھی کی ہے۔

Thailand Proteste

ریڈ شرٹس مظاہرین کے لئے متعین سکیورٹی اہلکار

دوسری جانب سرخ شرٹس مظاہرین کے حوالے سے ایک اہم بات یہ سامنے آئی ہے کہ ان کی تعداد میں روز بروز کمی واقع ہوتی جا رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ مظاہرین اب دھرنے کے عمل سے تنگ آکر تھکن کا شکار ہونے لگے ہیں۔

تھائی وزیر اعظم ابھیسیت وجے جیوا کی جانب سے مذاکراتی اور مصالحتی عمل میں پہل کو بھی مبصرین احسن انداز میں دیکھ رہے ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے انتخابات کے انعقاد کے مطالبے پر قدرے سخت مؤقف اختیار کر رکھا تھا۔ وجے جیوا نے مظاہرین کے سامنے اس سال چودہ نومبر کو انتخابات کروانے کی تجویز پیش کی ہے۔ اُن کی اس پیشکش کے جواب میں مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ وزیر اعظم سے پارلیمنٹ تحلیل کروانے کے باقاعدہ نظام الاوقات یعنی ’ٹائم ٹیبل‘ کی خواہش رکھتے ہیں اور اس کی تفصیلات کے بعد ہی بینکاک کو خالی کیا جائے گا۔

تھائی حکومت کی کوشش ہے کہ سرخ شرٹس مظاہرین وسطی بینکاک کے علاقے سے اپنے دھرنے کو فوراً ختم کردیں تاکہ کاروباری و اقتصادی

Thailand Bangkok Mai 2010

ریڈ شرٹس مظاہرین کے لئے بنائی گئی روکاوٹ

سرگرمیوں کی بحالی ممکن ہو سکے۔ مظاہرین کے رہنماوٴں کا خیال ہے کہ وزیر اعظم کے پاس الیکشن کی تاریخ مقرر کرنے کا اختیار ہی نہیں ہے۔ اس لئے انہوں نے تجویز دی ہے کہ وہ صرف پارلیمنٹ تحلیل کرنے کی تاریخ کا اعلان کریں۔

مظاہرین کے متحدہ محاذ برائے جمہوریت (UDF) یعنی یونائٹڈ فرنٹ فار ڈیموکریسی کے چیئرمین ویرا موزیکا پونگ نے اپنے ہزاروں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کے ساتھ مذاکراتی عمل شروع کرنے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ مزید انسانی جانوں کا ضیاع نہیں چاہتے۔ انہوں نے الیکشن کی تاریخ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کی تاریخ مقرر کرنے کی مجاز اتھارٹی الیکشن کمیشن ہے، ملکی وزیر اعظم صرف پارلیمنٹ تحلیل کر سکتے ہیں۔ پارلیمنٹ تحلیل ہونے کے بعد ہی الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ کا تعین کرتی ہے۔

اس سے قبل وجے جیوا قبل از وقت انتخابات کے انعقاد کو خارج از امکان قرار دیتے تھے۔ اپریل کے آخری دنوں میں وزیر اعظم نے اندرون ملک سیکیورٹی کی ذمہ داری بھی فوج کے سربراہ کے سپرد کردی تھی۔ مبصرین کا خیال ہے کہ انتخابات کی تاریخ کی پیشکش کے پس پردہ فوج کے سربراہ بھی ہو سکتے ہیں، جو ایک بار یہ کہہ چکے ہیں کہ تین اپریل سے جاری سیاسی بحران کا حل پارلیمنٹ کی تحلیل اور نئے انتخابات ہے۔

مظاہرین کے خلاف حکومتی ایکشن کے باعث گزشتہ ماہ کم از کم ستائیس افراد کی ہلاکت ہوئی تھی اور دیگر ایک ہزار زخمی ہوئے تھے۔ مصالحتی عمل پر فریقین کے اتفاق سے تھائی لینڈ کی مالی منڈی میں منگل کو تیزی دیکھنے میں آئی۔ امید کی جا رہی ہے کہ مظاہرین کی واپسی سے بازار حصص میں قیمتوں میں حوصلہ افزاء اضافہ ہو گا۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: گوہر نذیز گیلانی

DW.COM