1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تھائی لینڈ میں تین مشہور سیاحتی مقامات پر متعدد بم دھماکے

جنوبی تھائی لینڈ میں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے پسندیدہ تین مختلف سیاحتی مقامات پر ہونے والے متعدد بم دھماکوں میں کم از کم چار افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق یہ ’کوئی دہشت گردی نہیں‘ تھی۔

تھائی لینڈ میں ہُوا ہِن سے جمعہ بارہ اگست کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق ان سلسلے وار دھماکوں کی تعداد آٹھ تھی، جن میں سے دو کل جمعرات کو رات گئے اور باقی چھ چند گھنٹوں بعد آج جمعے کے روز کیے گئے۔

تھائی سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ ان دھماکوں کی وجہ سے دو افراد کل جمعرات کو ہلاک ہوئے تھے جبکہ کئی دیگر زخمی بھی ہو گئے تھے۔ اس کے بعد آج جمعے کو ہونے والے کم از کم چھ بم دھماکے مزید دو افراد کی ہلاکت اور درجنوں کے زخمی ہونے کا سبب بنے۔ اس طرح مجموعی طور پر درجنوں زخمیوں کے علاوہ ان دھماکوں میں چار افراد مارے گئے۔

جمعرات کی شب پہلے دو دھماکے ہُوا ہِن نامی مشہور سیاحتی مقام پر کیے گئے تھے جبکہ آج کے حملوں میں پھوکیٹ کے جزیرے اور سورت تھانی نامی صوبے میں ایک بہت مشہور سیاحتی مقام کو نشانہ بنایا گیا۔ تھائی لینڈ میں ہر سال صرف پھوکیٹ اور سورت تھانی کا رخ کرنے والے غیر ملکی سیاحوں کی تعداد ہی کئی ملین رہتی ہے۔

بنکاک میں پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ہُوا ہِن میں کیے گئے دھماکوں میں ایک شراب خانے اور ایک کلاک ٹاور کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں دو افراد مارے گئے جبکہ کُل 21 زخمیوں میں متعدد غیر ملکی سیاح بھی شامل ہیں۔

دیگر رپورٹوں میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ حملے زیادہ تر دیسی ساخت کے بموں کے تھے، جن میں سے چند کے دھماکے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کیے گئے۔ بنکاک میں سکیورٹی حکام کے مطابق یہ بم حملے ’دہشت گردی کی کوئی کارروائی نہیں‘ تھے بلکہ ’مقامی سطح پر تخریب کاری‘ کا نتیجہ تھے۔

تاہم حکام کی رائے میں ان حملوں اور ان کے طریقہء کار کو دیکھا جائے تو وہ کسی ایک ہی گروپ کی کارروائی معلوم ہوتے ہیں۔ تاحال کسی بھی عسکریت پسند گروپ نے ان کی ذمے داری قبول نہیں کی۔

تھائی لینڈ میں، جسے اپنے جنوب میں مسلمان عسکریت پسندوں کے حملوں کا سامنا رہتا ہے، یہ حملے اس قومی ریفرنڈم کے محض چند روز بعد کیے گئے ہیں، جس میں ملکی عوام نے فوج کی حمایت سے تیار کردہ نئے ریاستی آئین کی منظوری دے دی تھی۔