1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تھائی لینڈ، مظاہرین ٹیلی وژن کے احاطے میں داخل

تھائی وزیر اعظم کی جانب سے دارالحکومت بینکاک میں تین روزہ ایمرجنسی کے نفاذ اور فوج کی دھمکی کے باوجود سرخ شرٹس کے مظاہرین نے جمعہ کو بھی ایک ٹیلی ویژن سٹیشن کے احاطہ میں داخل ہونے سے باز نہیں آئے۔

default

معزول وزیر اعظم تھاکشن شناوترا کے سرخ قمیضوں میں ملبوس حامیوں نے فوج کی وارننگ کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک سیٹلائٹ سٹیشن کے احاطہ میں داخل ہو گئے۔یہ مظاہرین حکومت سے مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ پیپلز ٹیلی ویژن چینل پر سے سنسر شپ کی پابندی کو ختم کرے۔ مظاہرین کے احاطے میں داخل ہونے پر فوج کے تعینات دستوں کو پیچھے ہٹا لیا گیا تھا۔ یہ احاطہ پیپلز چینل کی نشریات کو اپ لنک کرنے کا مقام ہے۔ پیپلز ٹیلی ویژن چینل کا تعلق ریڈ شرٹس کے مظاہرین سے ہے۔ اس چینل کے نشریاتی آلات کو حکومت نے جمعرات کے روز اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔

Abhisit Vejjajiva

وزیر اعظم ابھیسیت وجے جیوا کا مظاہرین کے حوالے سے تحمل و برداشت کا رویہ سیاسی حلقوں میں بہت تعریف کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

حکومت کی جانب سے تین روزہ ایمرجنسی کے نفاذ کے دوران یہ خاصا بڑا مظاہرہ تصور کیا گیا ہے۔ مظاہرین کو روکنے اور منتشر کرنے کے لئے پولیس نے آنسو گیس کے شیل بھی پھینکے لیکن مظاہرین احاطے میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ کمپاؤنڈ میں داخل ہو کر مظاہرین اپنے ٹی وی چینل کی واپسی کے حق میں زوردارنعرے بازی کی۔ معزول وزیر اعظم اور جلا وطن لیڈر تھاکسن شیناواترا کے سرخ قمیضوں میں ملبوس حامیوں نے گزشتہ بدھ کو پارلیمنٹ پر دھاوا بول دیا تھا۔

حکومت نے اِن مظاہرین کو روکنےکے لئے تیس ہزار سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کر رکھا ہے۔ وزیر اعظم ابھیسیت وجے جیوا کا مظاہرین کے حوالے سے تحمل و برداشت کا رویہ سیاسی حلقوں میں بہت تعریف کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ دیہاتی اور ورکنگ کلاس کے مظاہرین پر ہرگز بڑے کریک ڈاؤن کا حکم نہیں دیں گے۔ دوسری جانب وزیر اعظم پر سیاسی دباؤ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے کہ وہ کسی سیاسی مفاہمت کی جانب بڑھیں اور مظاہرین کے قبل از وقت انتخابات کے مطالبے کو تسلیم کر لیں۔

دارالحکومت کے بیشتر علاقوں میں روزمرہ زندگی معمول کے مطابق دیکھی جا رہی ہے۔ تھائی لینڈ جنوب مشرقی ایشیاء کی دوسری بڑی اقتصادیات تصور کی جاتی ہے۔ سیاسی بحران کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کاروں میں مایوسی پھیلنے لگی ہے۔ سیاحت ایک بڑا روزگار کا سلسلہ ہے ، اس میں بھی مسلسل کمی کی وجہ سے معاشی بدحالی کو فروغ مل رہا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: افسر اعوان

DW.COM