1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان تاریخی ہندومندر کے قریب جھڑپیں

تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان ایک تاریخی مندر کے قریب جھڑپیں جاری ہیں۔ Preah Vihear ٹیمپل کو عالمی طور پر تاریخی ورثہ قرار دیا جاچکا ہے۔

تاریخی Preah Vihear مندر

تاریخی Preah Vihear مندر

کمبوڈیا حکومت کے ایک ترجمان Phay Siphan کے بقول پینوم ٹراپ کے قریب جاری ان جھڑپوں میں توپ خانہ استعمال کیا جارہا ہے۔ پینوم ٹراپ دراصل ایک پہاڑی ہے جو گیارہویں صدی میں تعمیر کیے گئے Preah Vihear ٹیمپل سے قریب 10 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ علاقے میں موجود کمبوڈیا کے ایک فوجی اہلکار پین سونگ نے جرمن خبررساں ادارے ڈی پی اے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پین ٹراپ میں ہونے والی ان تازہ جھڑپوں میں راکٹ اور شیل فائر کیے جارہے ہیں۔

Preah Vihear نامی اس مندر کو یونیسکو نے عالمی سطح پر ایک تاریخی ورثہ قرار دے رکھا ہے۔ سن 1962ء میں بین الاقوامی عدالت برائے انصاف نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ یہ مندر کمبوڈیا کے سرحدی علاقے میں آتا ہے تاہم اس کے اردگرد کا علاقہ ابھی بھی متنازعہ ہی ہے۔ رواں برس فروری میں اس مندر کے قریب ہونے والی جھڑپوں میں 10 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

کمبوڈیا حکومت کے ایک ترجمان Phay Siphan کے بقول پینوم ٹراپ کے قریب جاری ان جھڑپوں میں توپ خانہ استعمال کیا جارہا ہے

کمبوڈیا حکومت کے ایک ترجمان Phay Siphan کے بقول پینوم ٹراپ کے قریب جاری ان جھڑپوں میں توپ خانہ استعمال کیا جارہا ہے

Preah Vihear سے قریب ایک سو کلومیٹر دور ایک اور متنازعہ مقام پر جمعہ کے روز سے شروع ہونے والی سرحدی جھڑپوں میں اب تک کم از کم 13 فوجی ہلاک، جبکہ 50 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ گزشتہ پانچ دنوں سے جاری ان جھڑپوں کی ذمہ داری دونوں ممالک ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں۔

تھائی لینڈ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی خرابی کی ذمہ داری عالمی ادارے یونیسکو کے اس فیصلے پر بھی عائد کرتا ہے جس میں سال 2008ء میں Preah Vihear کو ایک عالمی ورثہ قرار دے دیا گیا تھا۔ تھائی لینڈ کا دعوٰی ہے کہ اس تاریخی مندر کے قریب چار سے چھ کلومیٹر رقبے کا علاقہ دونوں ملکوں کے درمیان متنازعہ ہے۔ یہ ہندو مندر اور اس کے ارد گرد کا علاقہ دونوں ملکوں کے درمیان گزشتہ پانچ دہائیوں سے وجہ تنازعہ بنا ہوا ہے۔

رپورٹ: افسراعوان

ادارت: کِشورمُصطفیٰ

DW.COM