1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

تپ دق کی موثر دوا کے لیے کارآمد پروٹین دریافت

ایک پروٹین، جو تپ دق یا ٹی بی کی دوا کی تیاری میں استعمال ہو سکتا ہے، دریافت کر لیا گیا ہے، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ تپ دق کے خلاف اس پروٹین کو استعمال کرتے ہوئے دوا کی تیاری میں ابھی کافی وقت درکار ہوگا۔

default

اس پروٹین کی دریافت لندن کے امپیریل کالج کے محققین نے کی۔ واضح رہے کہ دنیا بھر میں تپ دق یا ٹی بی کے خلاف ابھی تک صرف ایک دوا دستیاب ہے، جسے BCG کہا جاتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ دوا اس مرض کے خلاف بہت زیادہ موثر نہیں ہے۔

انسانی پھیپھڑوں کو متاثر کرنے والی اس بیماری کی وجہ سے دنیا بھر میں ہر سال دو ملین افراد کو جان سے ہاتھ دھونے پڑتے ہیں۔ چیریٹی ٹی بی الرٹ نامی تنظیم کے مطابق یہ تحقیق انتہائی حوصلہ افزا ہے، تاہم ابھی اس مہلک بیماری کے خلاف موثر دوا کی تیاری میں خاصا وقت درکار ہو گا۔

امپیریل کالج لندن میں ٹی بی کی دوا کی تیاری کے لیے مصروف عمل ٹیم کے سربراہ پروفیسر اجیت للوانی کے مطابق دنیا بھر میں تپ دق کے شکار لاکھوں مریض بی سی جی دوا استعمال کرتے ہیں اور ہر سال دنیا بھر میں ٹی بی کے نو ملین نئے کیسز سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مرض کے خلاف کسی موثر دوا کی اشد ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ تپ دق کا مرض ایک بیکٹریا کے حملے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ محققین اسی لیے اس بیماری سے بچاؤ کے لیے نئے پروٹینز کی تلاش میں سرگرداں ہیں، جو مائیکرو بیکٹیریم ٹیوبرکلوسس کے خلاف انسانی مدافعتی نظام کو طویل مدت کے لیے مضبوط بنائے۔

Tuberkulose in Indien Arztpraxis Flash-Galerie

ڈاکٹر ٹی بی کی ایک مریضہ کے ایکسرے کے معائنے کے دوران

تپ دق کے حوالے سے یہ تحقیق پروسیڈنگز ، برطانیہ کی نیشنل اکیڈمی آف سائنس میں شائع کی گئی ہے اور اس میں نئے دریافت کئے گئے پروٹین کا نام EspC بتایا گیا ہے۔ محققین کے مطابق یہ پروٹین انسانی مدافعتی نظام کو تپ دق کا باعث بننے والے بیکٹریا کے خلاف انتہائی مضبوط بنانے کی صلاحیت کا حامل ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس