1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

تيونس کے قريب درجنوں مہاجرين کو ڈوبنے سے بچا ليا گيا

تيونس کی بحريہ نے اپنے ملک کی جنوب مشرقی ساحلی پٹی کے قريب سے تقريباً ايک سو تارکين وطن کو ڈوبنے سے بچا ليا ہے۔ يورپ پہنچنے کی کوشش کے دوران چند گھنٹے قبل اسی مقام پر آٹھ مہاجرين ڈوب کر ہلاک ہو گئے تھے۔

تيونس کی وزارت داخلہ نے منگل کے روز جاری کردہ ايک بيان ميں کہا  ہے کہ کوسٹ گارڑز نے اٹھانوے افراد کو قرقنہ جزيرے کے قريب ڈوبنے سے بچا ليا ہے۔ يہ جزيرہ تيونس کی جنوب مشرقی ساحلی پٹی کے قريب واقع ہے۔ پير کی شب بچائے جانے والے تمام مہاجرين تيونس ہی کے شہری ہيں اور ان ميں تين بچے بھی شامل ہيں۔ ان تمام پناہ گزينوں کو اس وقت بچايا گيا، جب ان کی کشتی ڈوب رہی تھی۔ يہ سب غير قانونی طریقے سے  يورپ جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ قبل ازيں سمندر کے اسی حصے ميں پير ہی کے روز صبح کے وقت ايک مختلف واقعے ميں آٹھ افراد ڈوب کر ہلاک ہو گئے تھے۔ ہلاک ہونے والے تارکين وطن کی کشتی بحريہ کی ايک کشتی سے ٹکرانے کے بعد ڈوب گئی تھی۔ اس کشتی پر درجنوں مہاجرين سوار تھے۔

يہ پيش رفت ايک ايسے وقت ميں ہوئی، جب تيونس اور اٹلی کی بحری افواج نے سمندر ميں گشت کا ايک مشترکہ مشن شروع کيا ہے۔ تيونس کی وزارت دفاع کے مطابق اس مشن کا مقصد يورپ کی جانب غير قانونی ہجرت کو روکنے کے علاوہ ’سرچ اينڈ ريسکيو‘ بھی ہے۔ يہ امر اہم ہے کہ ليبيا کے ساتھ ساتھ تيونس کی يہ ساحلی پٹی بھی يورپ کی جانب ہجرت کرنے والے تارکين وطن کی گڑھ بنی ہوئی ہے۔ يورپ ميں ملازمت کے خواہاں سينکڑوں تيونسی نوجوان کشتيوں پر سوار ہو کر بحيرہ روم کی موجوں سے لڑتے ہوئے اپنی قسمت آزماتے ہيں۔ رواں سال جولائی سے جيسے ہی ليبيا سے پناہ گزينوں کی روانگی ميں کمی ہوئی، تب سے ہی تيونس کی يہ پٹی زور پکڑتی جا رہی ہے۔

DW.COM