1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تيونس: نئی حکومت کی اہم وزارتوں پر سابق وزراء برقرار

تيونس کے عبوری وزير اعظم محمد غنُوشی نے کہا ہے کہ صدر زين العابدين کی معزولی کا سبب بننے والے مظاہروں کو دبانے کے لئے جن حکام نے پر تشدد طريقے استعمال کئے ان کو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔

default

تيونس ميں مظاہرين

غنوشی نے آج کہا کہ جن وزيروں نے بن علی کے دور ميں کام کيا تھا اور وہ اب بھی اپنے عہدوں پر قائم ہيں، انہوں نے ہميشہ قومی مفاد کا تحفظ کيا ہے۔ انہوں نے اپنی نئی حکومت کے وزراء کا اعلان کرديا ہے۔ وہ سابق صدر بن علی کی حکومت کے خاتمے کے بعداگلے چھ ماہ ميں صدارتی اور پارليمانی انتخابات کی تياری بھی کرنا چاہتے ہيں۔

بن علی کے خلاف مظاہروں ميں درجنوں افراد ہلاک ہوگئے تھے۔غنوشی نے کہا: ’’ اس قتل عام کے ذمہ دار تمام افراد کو جواب دینا ہو گا۔‘‘ انہوں نے يہ بھی کہا کہ انہوں نے کبھی بھی سکيورٹی کے عملے کو گولی چلانے کا حکم نہيں ديا۔

Flash-Galerie Tunesien Mohamed Ghannouchi

عبوری وزير اعظم محمد غنوشی

تيونس کی نئی حکومت ميں سابق صدر بن علی کی ڈيموکريٹک پارٹی کو خارجہ اور داخلی امور، ماليات اور دفاع جيسی تمام اہم وزارتيں حاصل ہيں حالانکہ گزشتہ روز تيونس اور دوسرے شہروں ميں ہزاروں مظاہرين نے ان کی پارٹی کو کالعدم قرار دينے کا مطالبہ کيا۔

Zine El Abidine Ben Ali

سعودی عرب میں پناہ لے لینے والےسابق صدر بن علی

ليکن غنوشی نے کہا کہ سابق وزراء کو اس لئے بحال رکھا گيا ہے کيونکہ اس وقت اُن کی ضرورت ہے اور ان سب نے اپنے ہاتھ صاف رکھے ہيں۔ غنوشی کے مطابق ان وزراء نے ملکی محبت کی وجہ سے زيادہ نقصان نہيں ہونے ديا اور اُنہوں نے قومی مفاد کی خاطرہنگاموں کے دوران زيادہ مہلت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ بن علی نے تيونس پر 23 سال تک نہايت سختی کے ساتھ حکومت کی۔ نئی حکومت ميں قانونی اپوزيشن کے بعض رہنما اور سول سوسائٹی کے نمائندے شامل ہيں ليکن اس ميں ممنوعہ سياسی جماعتيں، مثلاً کميونسٹ اور اسلامی بيداریء نو پارٹی شامل نہيں ہے۔ غنوشی نے فرانسیسی ريڈيو يورپ ون کو انٹرويو ديتے ہوئے يہ بھی کہا کہ وہ اس سے اتفاق کرتے ہيں کہ سابق صدر بن علی کے حکومت کے آخری دور ميں امور حکومت درحقيقت اُن کے نہيں، بلکہ اُن کی اہليہ ليلیٰ کے ہاتھ ميں تھے۔

رپورٹ: شہاب احمد صدیقی

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس