1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

تين لڑکياں، تين کہانياں

يونان ميں قائم مہاجر کيمپوں ميں اگرچہ پناہ گزينوں کو دو وقت کی روٹی اور چھت دستياب ہے تاہم وہاں موجود عورتوں اور لڑکيوں کو ہراساں کيے جانے کے واقعات بھی عام ہيں۔ حکام ان واقعات سے اکثريتی طور پر نا آشنا دکھائی ديتے ہيں۔

جب شامی پناہ گزين وردہ نے اپنا آبائی شہر ادلب چھوڑا تو وہ اس بات سے اچھی طرح واقف تھی کہ اس کے سامنے ايک طويل اور کٹھن سفر ہے۔ تاہم اس کے وہم و گمان تک ميں يہ نہ تھا کہ اسے سب سے زيادہ مسائل کا سامنا ايک نوجوان لڑکی ہونے کے سبب کرنا پڑے گا۔ اٹھارہ سالہ وردہ پچھلے چار ماہ سے يونانی دارالحکومت کے ايک مہاجر کيمپ ميں اپنے منگيتر اور چھ رشتہ داروں کے ہمراہ رہ رہی ہے۔ اس کے ليے پرائيويسی کی مکمل عدم دستيابی، کئی افراد کے ليے صرف ايک ہی بيت الخلاء کی موجودگی اور بالخصوص کيمپ ميں جگہ جگہ بيٹھے افغان نوجوان پناہ گزينوں کی ’جملے بازی‘ پريشانی کا باعث ہيں۔

وردہ نے خبر رساں ادارے تھامسن روئٹرز فاؤنڈيشن سے بات چيت کرتے ہوئے کہا، ’’ويسے تو يہاں سب ہی کے ليے مشکلات ہيں ليکن خواتين کے ليے معاملات کچھ زيادہ ہی خراب ہيں۔‘‘ اس کے بقول افغان لڑکے، لڑکيوں کو چھيڑتے ہيں، خواہ وہ شادی شدہ ہوں، مسلمان ہوں يا کوئی بھی۔ اس شامی پناہ گزين لڑکی کے مطابق پريشانی کی بات يہ ہے کہ ان حالات ميں وہ کچھ بھی نہيں کر سکتی اور کسی سے جا کر شکايت نہيں کی کرسکتی۔

ايمنسٹی انٹرنيشنل کے مطابق خواتين مہاجرين کو اپنے آبائی علاقے چھوڑتے ہی تشدد، ان کا فائدہ اٹھائے جانے اور جنسی طور پر ہراساں کيے جانے کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔ رواں سال مارچ ميں يورپی يونين نے مہاجر عورتوں، ہم جنس پرستوں، خواجہ سراؤں اور ديگر افراد کی حفاظت يقينی بنانے کے ليے ہدايت نامہ جاری کيا تھا۔ اس اعلاميے ميں بہت سی سفارشات تھيں، جيسا کہ مردوں اور عورتوں کے ليے مختلف غسل خانے اور بيت الخلاء تاہم يونان کے اکثريتی کيمپوں ميں يہ سہولت شاز و نادر ہی نظر آتی ہے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق يونان سے گزرنے والے پچپن فيصد مہاجرين عورتيں اور بچے ہوتے ہيں۔ سترہ سالہ مريم حسين اس سال مارچ ميں ليسبوس پہنچی تھی اور اس وقت سے اب تک اپنے والد سے دور بھاگنے کی متعدد کوششيں کر چکی ہے۔ در اصل مريم کا کہنا ہے کہ اس کا والد اسے جذباتی طور پر ہراساں کرتا رہتا ہے۔ اسی سے تنگ آ کر ايک مرتبہ تو اس نے اپنی جان لينے کی کوشش بھی کی۔ اس نے بتايا، ’’ميں کافی پريشان اور افسردہ تھی۔ ميں نے کيمپ کے عملے کو بتانے کی کوشش بھی کہ تاہم انہوں نے ميری مدد کرنے کے بجائے سب کچھ ميرے والد کو بتا ديا۔‘‘

سياسی پناہ سے متعلق يونانی محکمے سے منسلک آيوٹا پيريسٹيری کے بقول وہ مريم کی داستان سن کر دنگ رہ گئی۔ انہيں يہ معلوم ہی نہ تھا کہ مہاجر کيمپوں ميں اتنی زيادہ تعداد ميں خواتين کو مختلف طريقہ کار اور اندازوں سے ہراساں کيے جانے کا سامنا ہے۔

دريں اثناء يونانی مہاجر کيمپوں ميں بہت سے پناہ گزينوں، بشمول عورتوں، کا يہ بھی دعویٰ ہے کہ انہيں پوليس اہلکاروں نے تشدد کا نشانہ بنايا ہے۔ پوليس حکام اس الزام کو مسترد کرتے ہيں تاہم بيس سالہ شامی فلسطينی پناہ گزين سلام کچھ اور ہی بتاتی ہے۔ اس کے بقول وہ اپنی ايک سہيلی سے ملنے جا رہی تھی کہ ايک پوليس اہلکار نے بلا وجہ اسے مارا۔ ’’اس نے مجھے اتنی زور سے گھونسا مارا کہ ميری پسلی کی ايک ہڈی ٹوٹ گئی اور مجھے ايک ماہ بستر پر گزارنا پڑا۔‘‘