1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تيل کی پيداوار بڑھا دی جائے، مغربی ممالک

مغربی ممالک کے عالمی توانائی کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ادارے انٹرنيشنل انرجی ايجنسی يا IEA نے تيل پيدا اور برآمد کرنے والے ممالک سے کہا ہے کہ وہ تيل کی پيداوار ميں اضافہ کرديں تاکہ پٹرول کی قيمت کم ہو جائے۔

اوپيک کا ہيڈ کوارٹر

اوپيک کا ہيڈ کوارٹر

IEA کے گورننگ بورڈ کی جمعرات 19 مئی کو ہونے والی ميٹنگ کے بعد کہا گيا کہ تيل پيدا کرنے والے ممالک پيداوار ميں اضافہ کرديں تاکہ عالمی معيشت پر کوئی برا اثر نہ پڑنے پائے۔ بورڈ نے بعض ممالک کی طرف سے پيداوار ميں اضافے کے وعدوں کو سراہا۔

بين الاقوامی توانائی ايجنسی کا يہ بيان ايک ايسے وقت سامنے آيا ہے جب جون کے پہلے ہفتے ميں تيل پيدا کرنے والے ممالک کی تنظيم اوپيک کا اجلاس ہونے والا ہے اور وہ ايران کے اس اعلان کے ايک دن بعد جاری ہوا ہے کہ ايران کے سخت رويہ رکھنے والے صدر احمدی نژاد اوپيک کے اجلاس ميںبطور نگراں وزير تيل ايران کی نمائندگی کريں گے۔

تيل پيدا کرنے والے ممالک کی 12 رکنی تنظيم اوپيک کا کہنا ہے کہ دنيا ميں تيل کی کافی سپلائی ہے۔

خليج ميں تيل کا ايک ايرانی کنواں

خليج ميں تيل کا ايک ايرانی کنواں

ليکن IEA کے گورننگ بورڈ کے اعلان ميں کہا گيا ہے کہ اسے اس پر شديد فکر ہے کہ اس بات کی علامات ميں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے کہ ستمبر سے پيٹرول کی قيمتيں بڑھنے سے عالمی معيشت کی بحالی پر برا اثر پڑ رہا ہے۔ 28 رکنی بين الاقوامی توانائی ايجنسی اپنے رکن ممالک ميں سرکاری طور پر ذخيرہ شدہ تقريباً 1.5 ارب بيرل تيل کی نگرانی کرتی ہے، جسے ہنگامی صورتحال ميں بازار ميں لايا جا سکتا ہے۔ فروری ميں ليبيا سے آنے والے تيل ميں 1.2 ملين بيرل روزانہ کی کمی اُس حد سے بہت کم ہے جس کے بعد IAE اپنے تيل کے ہنگامی ذخيرے کو مارکيٹ ميں لانے کا فيصلہ کر سکتی ہے۔ ليکن يہ خدشات پائے جاتے ہيں کہ اگر حالات اور بگڑے تو امريکہ اپنے تيل کے محفوظ سرکاری ذخائر سے پٹرول لے سکتا ہے۔

امريکی صدر اوباما نے مارچ ميں کہا تھا کہ پيٹرول کی فراہمی ميں سنگين قسم کی کمی يا خلل اُنہيں تيل کے محفوظ ذخائراستعمال کرنے پرآمادہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اُن کی حکومت کے پاس ايک ايسا منصوبہ ہے جس پر ہفتوں نہيں بلکہ دنوں کے اندر عمل کيا جا سکتا ہے۔

سعودی عرب کی ايک آئل ريفائنری

سعودی عرب کی ايک آئل ريفائنری

ليکن امريکی وزير داخلہ کين سالازار نے کہا کہ امريکہ کے 730 ملين بيرل محفوظ يٹروليم کی کچھ مقدار کو بازار ميں لانے سے پيٹرول کی قيمت پر کوئی اثر نہيں پڑے گا۔ انہوں نے يہ بھی کہا کہ تاريخی اعتبار سے محفوظ ذخائر سے پيٹرول قيمتوں کو کم کرنے کے ليے نہيں بلکہ تيل کی سپلائی ميں کمی سے نمٹنے کے ليے بازار ميں لايا گيا ہے۔ ليکن تيل کی قيمت مسلسل زيادہ رہنے کی وجہ سے صدر اوباما کی ڈيمو کريٹک پارٹی سميت دوسرے قانون ساز اراکين بھی تيل کے محفوظ ذخائر استعمال کرنے کا مطالبہ کر رہے ہيں۔

IEA کی طرف سے اوپيک سے تيل کی پيداوار بڑھانے کا براہ راست مطالبہ عام طور پر نہيں کيا جاتا۔ اس ليے يہ ايک غير معمولی بات ہے۔

ليبيا کی تيل کی پيداوار عملی طور پر رک گئی ہے۔ تيل پيدا کرنے والے سب سے بڑے ملک سعودی عرب نے تيل کی پيداوار بہت سست رفتار سے بڑھائی ہے۔ پٹرول کی قيمت ميں اضافے کے باوجود اوپيک نے تيل کی پيداوار ايک مستقل سطح پر رکھی ہے اور اُس کا کہنا ہے کہ مارکيٹ ميں تيل کی سپلائی کافی ہے۔ اوپيک کے رکن ممالک ايران اور وينيزويلا پيداوار ميں اضافے کی مخالفت کريں گے اور تجزيہ نگاروں کا خيال ہے کہ اوپيک کے اگلے اجلاس ميں ايرانی صدر احمدی نژاد کی شرکت کی وجہ سے اوپيک کی طرف سے پيداوار ميں اضافے کا کوئی امکان نظر نہيں آتا۔

رپورٹ: شہاب احمد صديقی

ادارت: امتياز احمد

DW.COM