1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

توہین مذہب کے موضوع پر بحث، دو پاکستانی ٹی وی پروگرام بند

مسلمانوں کے ماہِ مقدس رمضان میں پاکستان کی دو نجی ٹی وی چینلز کے مذہبی پروگرام بند کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ ان پروگراموں کو توہین مذہب کے موضوع سے متعلق بحث کے تناظر میں بند کیا گیا ہے۔

پاکستان کی الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (PEMRA) کے مطابق نجی ٹی چینلز ’آج نیوز‘ اور ’ٹی وی ون‘ فرقہ واریت کو ہوا دینے اور ماہِ رمضان کے تقدس کو پامال کرنے جیسے اقدامات کی وجہ سے اس حوالے سے مروجہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے تھے۔

پیمرا کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، ’’ٹی وی ون کے پروگرام ’عشقِ رمضان‘ (میزبان شبیر ابوطالب) اور آج نیوز کے پروگرام ’رمضان، ہمارا ایمان‘ (میزبان حمزہ علی عباسی) پر فوری طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔‘‘ پیمرا کی جانب سے ان دونوں پرائیویٹ ٹی وی چینلز سے کہا گیا ہے کہ وہ جمعے کے روز سے اس پابندی پر عمل کریں، ورنہ ان کی نشریات روک دی جائیں گی۔

رواں ہفتے اپنے ایک پروگرام میں ’آج‘ ٹی وی کے میزبان حمزہ علی عباسی نے ملک میں احمدی اقلیتی برادری کے ساتھ غیرمنصفانہ برتاؤ اور توہین مذہب سے متعلق قوانین کے حوالے سے بات کی تھی۔ اپنے پروگرام میں موجود دو مذہبی رہنماؤں سے بات چیت میں عباسی کا کہنا تھا کہ ریاست کو کسی شخص کے ’’مسلمان ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرنے کا اختیار کیسے حاصل ہے؟‘‘

Pakistan Anschlag in Gujranwala

پاکستان میں توہین مذہب کے موضوع پر اس سے قبل بھی پرتشدد واقعات دیکھنے میں آئے ہیں

سن 1974 میں پاکستانی پارلیمان نے ایک دستوری ترمیم کے ذریعے احمدی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کو غیرمسلم قرار دے دیا تھا، جب کہ 80 کی دہائی میں پاکستان کے فوجی آمر ضیاء الحق کی جانب سے جاری کردہ ایک متنازعہ آرڈیننس کے ذریعے احمدی برادری کے افراد کی طرف سے خود کو بالواسطہ یا بلاواسطہ مسلمان ظاہر کیے جانے کو بھی قابل تعزیر جرم قرار دے دیا گیا تھا۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ انہیں قوانین کے باعث اس مذہبی اقلیت کو اپنے خلاف حملوں اور غیرمنصفانہ رویے کا سامنا رہتا ہے۔

’آج‘ ٹی وی کے اس پروگرام کے جواب میں ’ٹی وی ون‘ کی رمضان نشریات کے میزبان شبیر ابوطالب نے اپنے ایک پروگرام میں موجود مذہبی رہنما علامہ کوکب نورانی سے ان کی رائے طلب کی تھی، جس کے جواب میں نورانی نے حمزہ علی عباسی کو ’سنگین نتائج کی دھمکی‘ دی تھی۔

اس پروگرام میں کوکب نورانی کا کہنا تھا کہ اس موضوع پر گفت گو کرنے پر حمزہ علی عباسی کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، دوسری صورت میں ’مسلمان اس معاملے کو خود نمٹا سکتے ہیں‘۔

پاکستان میں، جو ایک اسلامی جمہوریہ ہے، توہین مذہب اور توہین رسالت سے متعلق متنازعہ قوانین پر بات کرنا یا ان پر سوال اٹھانا بھی ایک نہایت حساس معاملہ ہے۔ اس تناظر میں ماضی میں پاکستان میں کئی بار پرتشدد کارروائیاں اور واقعات بھی دیکھنے میں آ چکے ہیں۔ انہی مجرمانہ واقعات میں سے ایک چند برس قبل پنجاب کے صوبائی گورنر سلمان تاثیر کا ان کے اپنے ہی محافظ کے ہاتھوں قتل بھی شامل ہے۔