1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

توہین مذہب کے مقدمات: الزامات غلط نہ ہوں، سپریم کورٹ کا حکم

پاکستانی سپریم کورٹ نے ریاست کو یہ امر یقینی بنانے کا حکم دیا ہے کہ وہ سینکڑوں ملزمان جو توہین مذہب کے الزام میں یا تو جیلوں میں بند ہیں یا پھر سزائے موت دیے جانے کے انتظار میں ہیں، ان پر لگائے گئے الزامات غلط نہ ہوں۔

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے بدھ اٹھائیس اکتوبر کو موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق سپریم کورٹ نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ توہین مذہب کے مقدمات میں ملوث تمام ملزمان کے خلاف الزامات کی درستی کو اس لیے مفصل طور پر چیک کیا جانا چاہیے کہ وہ غلط نہ ہوں کیونکہ اکثر ایسے واقعات میں ملزمان کے دشمن پرانے حساب چکانے کے لیے ایسے الزامات لگا دیتے ہیں۔

DW.COM

قریب 200 ملین کی آبادی والے مسلم اکثریتی ملک پاکستان میں توہین مذہب ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور اکثر ایسے الزامات لگائے جانے کے بعد، جب ان الزامات کی درستی ابھی ثابت بھی نہ ہوئی ہو، مشتعل افراد کے گروہوں کی طرف سے مبینہ ملزمان کو قتل کر دینے یا آگ لگا کر زندہ جلا دینے تک کے واقعات پیش آتے ہیں۔

ایسے الزامات کا احاطہ پاکستان میں توہین مذہب کے خلاف ملکی قوانین کرتے ہیں، جن پر بہت سے یورپی ملکوں کی حکومتوں کے علاوہ بھی بے شمار حلقوں کی طرف سے شدید تنقید کی جاتی ہے کہ ان قوانین کا اکثر غلط استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ کہ آج پاکستانی جیلوں میں مبینہ طور پر غلط الزامات کے بعد حراست میں لیے گئے ایسے سینکڑوں ملزمان قید ہیں، جنہیں جرمانے اور عمر قید کی سزاؤں کے علاوہ موت تک کی سزائیں یا تو سنائی جا چکی ہیں یا سنائی جا سکتی ہیں۔

اس سلسلے میں کل منگل کے روز پاکستانی سپریم کورٹ نے اپنے ایک مفصل فیصلے میں تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام میں کسی پر غلط الزام لگانا بھی اتنا ہی بڑا جرم ہو سکتا ہے جتنا کہ کسی پر توہین مذہب کا الزام لگانا۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اس تاریخ ساز فیصلے کے محض چند ہی ہفتے بعد سامنے آیا ہے، جس میں ممتاز قادری نامی مجرم کو سنائی گئی سزائے موت برقرار رکھی گئی تھی۔ ممتاز قادری پر صوبہ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے قتل کا الزام تھا، اور سلمان تاثیر نے توہین مذہب کے ملکی قانون میں اصلاحات کا مطالبہ کیا تھا، جس پر انہی کے محافظ ممتاز قادری نے انہیں قتل کر دیا تھا۔

پاکستان کے اعتدال پسند سماجی حلقوں نے ممتاز قادری کی ایک اپیل پر اس کے خلاف سنائے گئے اس فیصلے کو تاریخی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ فیصلہ ملک میں مذہبی انتہا پسندی کی حمایت کرنے والوں کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہے۔

Pakistan niedergebrannte Häuser der Christen in Lahore 09.03.2013

توہین مذہب کے ایک مبینہ واقعے کے بعد لاہور میں ایک مشتعل ہجوم کی طرف سے جلا دیے گئے مقامی مسیحی باشندوں کے مکانات، فائل فوٹو

اے ایف پی کے مطابق اس تناظر میں منگل ستائیس اکتوبر کے روز پاکستانی سپریم کورٹ نے اسی سمت میں ایک اور بڑا قدم اٹھاتے ہوئے کہا کہ توہین مذہب ایک بڑا ہی ’قابل نفرت اور غیر اخلاقی‘ اقدام ہے۔ لیکن دوسری طرف ’توہین مذہب کے ارتکاب سے متعلق کسی پر جھوٹا الزام لگانا بھی نہ صرف ایک جرم ہے بلکہ یہ جرم اتنا ہی قابل سزا اور قابل مذمت ہے، جتنا کہ کسی کی طرف سے توہین مذہب کا ارتکاب‘۔

اس حوالے سے سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا، ’’اس پس منظر میں یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ریاست کا کام ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ کسی بھی معصوم انسان کو مجبور نہ کیا جائے کہ وہ اپنے خلاف اس لیے کسی مقدمے کا سامنا کرے کہ اس پر یا تو یہ الزامات کسی دشمنی کی وجہ سے لگائے گئے ہوں یا وہ مکمل یا جزوی طور پر جھوٹے اور بے بنیاد ہوں۔‘‘