1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

توہین مذہب کے قانون میں ترمیم کی جائے، پاکستانی عدالت

پاکستان کی ایک اعلیٰ عدالت نے سفارش کی ہے کہ ملکی پارلیمان توہین مذہب کے متنازعہ قانون کا جائزہ لے اور اس میں ایسی تبدیلیاں کرے جس سے اُن بے قصور افراد کو بچایا جا سکے جن پر توہین مذہب کا غلط الزام عائد کیا گیا ہو۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے آج جمعہ بارہ اگست کے روز دیے گئے ایک فیصلے میں کہا کہ بعض افراد صرف اپنی ذاتی دشمنیوں کا بدلہ لینے کے لیے اپنے مخالفین پر توہین مذہب کا غلط الزام عائد کر کے اپنے مخالف اور اس کے خاندان کی زندگیاں خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔

عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ توہین مذہب کے قانون کے بعض ناقدین اس قانون ہی کو سرے سے ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں تاہم عدالت سمجھتی ہے کہ قانون کو ختم کرنے سے بہتر ہے کہ اس کے ناجائز استعمال کی روک تھام کی جائے۔

اسلام ہائی کورٹ کے جج نے اپنے فیصلے میں ملکی پارلیمان سے سفارش کی ہے کہ قانون میں ترمیم کرتے ہوئے کسی شخص پر توہین مذہب کا جھوٹا الزام عائد کرنے والے کے لیے بھی وہی سزا رکھی جائے جو دراصل توہین مذہب کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے رکھی گئی ہے۔

پاکستان میں توہین مذہب اور توہین رسالت سے متعلق ان قوانین کے تحت سزائے موت بھی سنائی جا سکتی ہے۔ کئی واقعات میں اِن الزامات کا سامنے کرنے والے متعدد افراد کو مشتعل مظاہرین ہلاک بھی کر چکے ہیں۔

DW.COM