1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

توہین مذہب کا قانون، مولانا شیرانی نظر ثانی پر تیار

پاکستان میں اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ محمد خان شیرانی نے کہا ہے کہ وہ توہین مذہب کے قوانین پر نظر ثانی کے لیے تیار ہیں۔ ناقدین کے مطابق ان قوانین کا غلط استعمال ممکن ہے، جس کے باعث سینکڑوں ہلاکتیں بھی ہو چکی ہیں۔

Pakistans Demos Christen 09.03.2013

ناقدین کے مطابق ان قوانین کا غلط استعمال ممکن ہے، جس کے باعث سینکڑوں ہلاکتیں بھی ہو چکی ہیں

خبر رساں ادارے روئٹرز نے اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ محمد خان شیرانی کے حوالے سے بتایا ہے کہ وہ توہین مذہب کے قوانین پر نظر ثانی کی بحث کا آغاز کرتے ہوئے یہ پرکھنے کے لیے تیار ہیں کہ آیا سزائیں واقعی بہت سخت ہیں۔

یہ امر اہم کہ پاکستان میں ان قوانین میں ترامیم کی بات کرنا انتہائی حساس معاملہ ہے۔ اس لیے ملک کی مذہبی اور سیاسی جماعتیں اس بحث سے دور ہی رہتی ہیں۔ پاکستان کے قدامت پسند معاشرے میں توہین مذہب یا توہین رسالت کے معاملے پر افواہوں کے بعد بھی بڑے بڑے احتجاجی اور پرتشدد مظاہرے شروع ہو جاتے ہیں۔

محمد خان شیرانی نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان سرکاری طور پر اس قانون پر نظر ثانی کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل سے رجوع کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذہبی حلقوں میں ان قوانین کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔

شیرانی کے مطابق اگر اس معاملے پر اسلامی نظریاتی کونسل سے مشاورت کے لیے باقاعدہ سرکاری درخواست کی جاتی ہے تو یہ کونسل انتہائی ایمانداری اور دیانت داری کے ساتھ اس پر نظر ثانی کرتے ہوئے اپنی تجاویز پیش کرے گی۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ کے مطابق مشاورت کے بعد واضح ہو سکے گا کہ آیا ان قوانین میں ترامیم کی ضرورت ہے یا نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مشاورت سے ہی معلوم ہو سکے گا کہ ان قوانین کو سخت بنانے کی ضرورت ہے یا نرم یا پھر یہ موجودہ حالت میں ہی درست ہیں۔

Pakistan - Ausgebrannte Fabrik in Jehlum

توہین رسالت یا توہین مذہب کے الزامات کا سامنے کرنے والے متعدد افراد کو مشتعل مظاہرین ہلاک کر چکے ہیں

جمعیت علمائے اسلام کے رہنما شیرانی نے البتہ اس معاملے پر اپنی ذاتی رائے محفوظ رکھی۔ یہ امر اہم ہے کہ ابھی حال ہی میں اسلامی نظریاتی کونسل نے اس قانونی مسودے پر اعتراض کر دیا تھا، جس میں بچوں کی شادیوں پر پابندی عائد کرنے کے اقدامات وضع کیے گئے تھے۔

توہین مذہب اور توہین رسالت سے متعلق ان قوانین کے تحت سزائے موت بھی سنائی جا سکتی ہے لیکن ابھی تک پاکستان کی تاریخ میں کسی کو اس جرم پر تختہ دار پر نہیں لٹکایا گیا۔ تاہم کئی واقعات میں توہین رسالت یا توہین مذہب کے الزامات کا سامنے کرنے والے متعدد افراد کو مشتعل مظاہرین ہلاک کر چکے ہیں۔