1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

توہین مذہب کا قانون ختم نہیں کیا جائے گا، پاکستانی وزیر

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ ملک میں موجود توہین مذہب کا قانون کسی صورت ختم نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ’کبھی بھی ایک سیکولر‘ ریاست نہیں بنے گا۔

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ’’پاکستانی امریکن پریس ایسوسی ایشن‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے ان رپورٹوں کو بھی مسترد کیا ہے کہ اس قانون کو استعمال کرتے ہوئے ملک میں موجود اقلیتوں کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

نیوز ایجنسی کے این اے کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون ایک ’عظیم مقصد‘ کے تحت بنایا گیا تھا اور یہ صرف اسلام ہی نہیں بلکہ تمام مذاہب کی حفاظت کے لیے ہے۔ سردار محمد یوسف کا زور دیتے ہوئے کہنا تھا کہ اس قانون کے غلط استعمال کے دروازے حال ہی میں بند کر دیے گئے ہیں۔

پاکستانی مسیحی کو توہین رسالت کے جرم میں سزائے موت کا حکم

پاکستان میں توہین مذہب ایک بڑا جرم خیال کیا جاتا ہے اور اس جرم میں سزائے موت بھی دی جا سکتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مغربی ممالک اس قانون کے خلاف ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ آہستہ آہستہ اس قانون میں نرمی لاتے ہوئے اسے مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔

توہین مذہب کے قوانین، دنیا میں پھیلتے ہوئے

اس قانون کے حوالے سے سب سے مشہور کیس مسیحی خاتون آسیہ بی بی کا ہے، جسے سن دو ہزار دس میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ آسیہ بی بی کی سزائے موت کے خلاف اپیل کے حوالے سے فیصلہ متعدد مرتبہ موخر کیا جا چکا ہے۔ آسیہ بی بی کے ایک وکیل خلیل طاہر سندھو کا چند ہفتے پہلے کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ کیس جلد ہی ایک اہم موڑ لے گا، ’’مجھے یقین ہے کہ دو یا تین ماہ تک آسیہ بی بی کو رہا کر دیا جائے گا۔‘‘

ماضی میں اس قانون کو تنقید کا نشانہ بنانے والے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر اور پھر مسیحی وزیر شہباز بھٹی کو بھی قتل کر دیا گیا تھا۔ بعدازاں حکومت پاکستان نے سلمان تاثیر کو قتل کرنے والے ان کے محافظ ممتاز قادری کو بھی سزائے موت دے دی تھی۔

DW.COM