1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

توہین مذہب کا قانون اور پاکستانی ذرائع ابلاغ پر چھایا خوف

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان میں ناقدین کو خاموش کرنے کا طاقتور آلہ توہین مذہب کا قانون ہے۔ اس قانون کے تحت گرفتار ہونے والے کو موت سزا کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں یہ تاثر عام ہے کہ انتہاپسندانہ عقیدے کے حامل افراد توہین مذہب کے قانون کو استعمال کرنے میں بے باک ہیں کیونکہ وہ اس کے ذریعے اعتدال پسند اور لبرل حلقوں میں سرگرم افراد کو ’نکیل‘ ڈالنے میں کامیاب رہے ہیں۔ یہ صورت حال ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب پاکستانی حکومتی حلقے زور و شور سے  تشدد، دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف آواز بلند کر کے مذہبی دہشت گردوں کی سرکوبی کے دعوے کر رہے ہیں۔

توہین مذہب کے قانون کی پاسداری میں انتہا پسند حلقے اتنے حساس ہو چکے ہیں کہ اس میں معمولی سے تبدیلی پر وہ آگ بگولا ہو جاتے ہیں اور جلسے جلوسوں کے ذریعے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ لبرل حلقوں کے جن افراد کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، انہیں ملک سے فرار ہونے میں عافیت ملتی ہے جیسے کہ احمد وقاص گورایا اور اُن جیسے دوسرے اعتدال پسند افراد نے کیا ہے۔

حال ہی میں پاکستانی حکومت نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس فیس بک اور ٹویٹر پر دستیاب بعض مواد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان اداروں سے رابطہ کر لیا گیا ہے کہ وہ ایسے افراد کی نشاندہی میں تعاون کریں جو پاکستان کے اندر سے مذہبی اشتعال انگیز مواد اپ لوڈ کر رہے ہیں۔ اسلام آباد حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ دوسرے ملکوں میں مقیم ایسے پاکستانیوں کی بے دخلی کی سفارتی کوششیں بھی شروع کر سکتی ہے۔

Pakistan Protest - Aktivist Salman Haider verschwunden (Getty Images/AFP/A. Hassan)

کچھ عرصہ قبل گرفتار ہونے والے اعتدال پسند بلاگرز کی گمشدگی کے خلاف نکالا گیا دوستوں اور رشتہ داروں کا جلوس

احمد وقاص گورایا نے نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو انٹرویو دیتے ہوئے واضح کیا کہ اب پاکستان میں اُن کے خلاف ایسی فضا قائم کر دی گئی ہے کہ وہ اپنے وطن لوٹ نہیں سکتے کیونکہ اگر وہ گئے تو مذہبی انتہا پسند اُن کی جان لے سکتے ہیں۔ یہ امر اہم ہے کہ بلاگرز کے مقدمے میں وکیل استغاثہ طارق اسد نے کھل کر عدالت سے اِن کے لیے موت کی سزا کی استدعا کی تھی۔ اسد کالعدم سنی انتہا پسند گروپوں کے حامی رہے ہیں اور شیعہ مسلک کو غیرمسلم قرار دینے والوں کے ساتھی بھی خیال کیے جاتے ہیں۔

احمد وقاص گورایا نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ توہین مذہب کے قانون نے میڈیا ہاؤسز کو زیرِنگیں کر رکھا ہے اور سوشل میڈیا پر سرگرم افراد یقینی طور پر خوف زدہ ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اعتدال پسند بلاگرز کے خلاف ایک اپیل سلمان شاہد نامی وکیل نے دائر کر رکھی ہے اور اس وکیل کے پاکستانی دارالحکومت میں واقع انتہا پسندوں کے گڑھ  لال مسجد کے ساتھ روابط ہیں۔ ممتاز تجزیہ کار زاہد حسین کے مطابق اس قانون کا سہارا لے کر  مذہبی انتہا پسند اپنی نظریاتی جنگ کے فروغ میں مصروف ہیں۔