1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

توہین رسالت کا مرتکب ہونے کی غلط فہمی، لڑکے نے ہاتھ کاٹ لیا

پاکستان میں ایک پندرہ سالہ لڑکے نے اس غلط فہمی میں کہ وہ توہین رسالت کا مرتکب ہوا ہے، اپنا ہی ہاتھ کاٹ کر جسم سے الگ کر دیا۔ اُس کے اس اقدام پر اُس کے والدین اور پڑوسی اُسے خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی نے لاہور سے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ یہ واقعہ تقریباً چار روز قبل لاہور سے جنوب کی جانب کوئی 125 کلومیٹر دور حجرہ شاہ مقیم کے نواح میں پیش آیا۔

مقامی پولیس چیف نوشیر احمد نے اے ایف پی کو اس واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ایک قریبی گاؤں کی ایک مسجد میں ایک اجتماع کے دوران امام نے کہا کہ جو لوگ پیغمبر اسلام سے محبت کرتے ہیں، وہ اپنی نمازیں ادا کرتے ہیں۔ پھر امام نے حاضرین سے مخاطب ہوتے ہوئے پوچھا کہ وہاں موجود لوگوں میں سے کس کس نے نماز ادا کرنا چھوڑ دی ہے۔

اس سوال کے جواب میں پندرہ سال محمد انور نے، جو اس سوال کو اچھی طرح سے سن ہی نہیں سکا تھا، غلطی سے اپنا ہاتھ بلند کر دیا۔ اس پر وہاں موجود ہجوم نے اُسے توہینِ رسالت کا مرتکب قرار دے دیا۔

Koranschule in Pakistan

امام نے کہا کہ جو لوگ پیغمبر اسلام سے محبت کرتے ہیں، وہ اپنی نمازیں ادا کرتے ہیں، پھر پوچھا کہ آپ میں سے کس کس نے نماز چھوڑ دی ہے؟

بتایا گیا ہے کہ اپنے ساتھ ہونے والے اس سلوک کے فوراً بعد محمد انور اپنے گھر گیا اور اُس نے اپنا وہ ہاتھ کاٹ کر جسم سے الگ کر دیا، جو اُس نے امام کے سوال کے بعد فضا میں بلند کیا تھا۔ پولیس چیف کے مطابق بعد ازاں محمد انور نے اس ہاتھ کو پلیٹ میں سجایا اور لے جا کر امام کو پیش کر دیا۔

پولیس سربراہ نوشیر احمد نے بتایا کہ اُس نے ایک ویڈیو دیکھی ہے، جس میں گاؤں کے لوگ اس نوجوان کو خراجِ تحسین پیش کر رہے تھے اور اُس کے والدین اپنے بیٹے کے اقدام پر فخر کا اظہار کر رہے تھے۔

پولیس چیف نے کہا کہ اس واقعے کے حوالے سے کوئی شکایت وغیرہ سامنے نہیں آئی ہے، اس لیے کوئی پولیس رپورٹ بھی درج نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی اس کیس کے سلسلے میں کسی طرح کی کوئی تحقیقات کی جائیں گی۔

بیس کروڑ کی آبادی کے حامل پاکستان میں توہینِ رسالت ایک حساس موضوع ہے، جہاں غیر مصدقہ الزامات کے بعد بھی پُر تشدد واقعات سامنے آتے رہتے ہیں اور لوگ قانون کو ہاتھ میں لے کر ملزمان کو ہلاک کر ڈالتے ہیں۔

ناقدین کا، جن میں یورپی حکومتیں بھی شامل ہیں، کہنا یہ ہے کہ پاکستان میں زیادہ تر ذاتی رنجشوں کا بدلہ لینے کے لیے توہینِ مذہب کے قوانین کو غلط اور ناجائز طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

DW.COM