1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

توہین رسالت میں ملوث افغان صحافی کی رہائی

افغانستان میں توہین رسالت کے الزام پر قید صحافی سید پرویز کامبخش کو رہا کردیا گیا ہے۔ ان کی رہائی صدر حامد کرزئی کی جانب سے معافی نامے پر دستخط کے بعد عمل میں آئی ہے، جس پر دستخط کچھ ہفتے قبل کئے گئے تھے۔

default

سید پرویز کامبخش

Hamid Karsai warnt Pakistan vor Angriffen

صدر کرزئی کی جانب سے معافی نامے پر دستخط کے بعد ہی کامبخش کی رہائی ممکن ہوئی

24 سالہ کامبخش 'جہان نو' اخبار میں زیرتربیت صحافی کے طور پر کام کر رہا تھا اور اسے اکتوبر 2007 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم 'رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈر' کے مطابق ان پر ایک ایرانی ویٹ سائٹ سے خواتین کے حقوق کے بارے میں ایک مضمون ڈاؤن لوڈ کرنے کا الزام تھا، جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ خواتین کے بارے میں اسلام کیا کہتا ہے۔

اس الزام پر مزار شریف میں ایک ٹربیونل نے جنوری 2008 میں کامبخش کو سزائے موت کی سزا سنائی تھی۔ تاہم کابل میں ایک اپیلز کورٹ نے اسی برس اکتوبر میں اسے 20 سال قید کی سزا میں تبدیل کر دیا تھا۔ ملکی سپریم کورٹ نے رواں برس مارچ میں اس سزا کو برقرار رکھا تھا۔

'رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز' کے سیکریٹری جنرل جین فراسیوس کاکہنا ہے کہ کامبخش کے مقدمے کو مذہبی عدم برداشت، پولیس کی جانب سے ناانصافی اور مخصوص ججوں کی نااہلی کے باعث 'انصاف کے قتل' کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

Logo Amnesty International

کامبخش کی رہائی پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کا خیرمقدم

فرانسیوس کہتے ہیں، کابل حکومت کو یہ بات یقینی بنانی چاہئے کہ توہین رسالت کے قانون کو سیاسی بنیادوں پر لگائے گئے الزامات اور آزادی اظہار کو دبانے کے لئے پھر کبھی استعمال نہ کیا جائے۔

اُدھر حقوق انسانی کی عالمی تنظیم 'ایمنسٹی انٹرنیشنل' نے بھی کامبخش کی رہائی کا خیرمقدم کیا ہے۔ لندن سے جاری بیان میں تنظیم نے کہا کہ اسے کبھی سلاخوں کے پیچھے ہونا ہی نہیں چاہئے تھا۔ ایشیا اور بحرالکاہل کے لئے ایمنسٹی کے ڈائریکٹر سیم زریفی کا کہنا ہے کہ کامبخش نے ایسا کچھ کیا ہی نہیں تھا، جس کے باعث اسے قانونی طور پر مجرم ٹھہرایا جا سکتا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اُمید ظاہر کی ہے کہ افغان حکام توہین رسالت کے الزام میں قید دو دیگر مصنفین کو بھی رہا کر دیں گے۔ ان میں احمد غوث زِلمے اور قاری مشتاق شامل ہیں، جنہیں گزشتہ سال اس بناء پر جیل بھیجا گیا کہ انہوں نے قرآن کا ترجمہ عربی ٹیکسٹ شامل کئے بغیر شائع کیا تھا۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: افسر اعوان