1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

توہین رسالت قانون میں ممکنہ ترمیم کے خلاف لاہور میں مظاہرہ

پولیس حکام کے مطابق پاکستانی صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں قریب 40 ہزار افراد نے ایک ریلی نکالی۔ یہ افراد توہین رسالت قانون میں کسی تبدیلی کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔

default

پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کے قتل کے بعد مذہبی سیاسی جماعتیں ملک کے کئی شہروں میں اس قانون میں ممکنہ تبدیلی کے خلاف کئی مرتبہ مظاہرہ کرچکی ہیں۔ سلمان تاثیر کو ان کے ایک محافظ ممتاز قادری نے چار جنوری کو اس وجہ سے قتل کردیا تھا کہ انہوں نے ایک مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کے جرم میں سزائے موت دیے جانے پر بیانات دیے تھے۔ سلمان تاثیر نے اس پاکستانی قانون کو نوعیت کے اعتبار 'کالا قانون' قرار دیتے ہوئے اس میں تبدیلی کا عندیہ دیا تھا۔

سلمان تاثیر کے ان بیانات پر پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعتوں کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آیا۔ گورنر کے قتل کے بعد سیاسی جماعتوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ پر پاکستانی وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اسلام آباد میں علماء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ مذکورہ قانون میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

Pakistan Mumtaz Qadri Mord Gouverneur Salman Taseer

مظاہرے میں ممتاز قادری کے حق میں بینر لہرائے گئے

لاہور میں اتوار کو احتجاج کرنے والی جماعتوں کے کارکنوں نے سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی رہائی کے مطالبات پر مبنی بینر بھی اٹھا رکھے تھے۔ ان میں جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام اور جماعت الدعوة کے کارکن شامل تھے۔ یہ لوگ نعرے لگا رہے تھے کہ توہین رسالت کے قانون میں کوئی تبدیلی برداشت نہیں کی جائے گی۔

ایک مقامی حکومت کے اہلکار طارق زمان نے مظاہرین کی تعداد 40 ہزار کے قریب بتائی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس ریلی سے پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ اور مسلم لیگ ق کے بعض رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر ایک امریکی شہری ریمونڈ ڈیوس کے ہاتھوں قتل ہونے والے دو افراد کے بھائیوں کو بھی سٹیج پر لایا گیا اور اس کیس میں ان کی ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی گئی۔

رپورٹ: افسراعوان

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس