1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

توہینِ مذہب کے مقدمات، اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ تنقید کی زد میں

اسلام آباد پولیس کی طرف سے نا معلوم ملزمان کے خلاف توہینِ رسالت و توہینِ مذہب کے مقدمات کے اندراج پر سماجی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ بھی تنقید کی زد میں ہے۔

یہ مقدمات اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد درج کیے گئے ہیں، جس میں عدالتِ عالیہ نے حکومت کو حکم دیا تھا کہ انٹرنیٹ پر سے ایسے مواد کو فوری طور ہٹایا جائے جو مذہب ومقدس ہستیوں کے خلاف ہے۔
یہ مقدمات انسپیکٹر ارشاد ابڑو، ایس ایچ اوتھانہ رمنا، اسلام آباد کی مدعیت پر درج کیے گئے ہیں۔ ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے ارشاد ابڑو نے کہا، ’’ہم نے ایف آئی آر درج کر کے کارروائی شروع کردی ہے۔  ہم نے ایف آئی اے سائبر کرائم سے درخواست کی ہے کہ یہ پتہ چلایا جائے کہ ان گستاخانہ ویب سائٹوں یا بلاگ کو کون چلا رہا ہے۔ ہم نے ان سے درخواست کی ہے کہ وہ جلد از جلد یہ پتہ لگائیں تاکہ ہم ایسے لوگوں کو پکڑ سکیں۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں ایس ایچ او نے کہا، ’’ابھی تک ملزمان نا معلوم ہیں۔ انٹر نیٹ پر فراڈ بھی بہت ہوتا ہے۔ لوگ جعلی اکاونٹس بھی بنالیتے ہیں اور ایک بندے کی تصویر کسی اور کے ساتھ لگا دیتے ہیں۔ اس لیے ہم پوری تحقیق کے بعد بھرپور ایکشن لیں گے۔ ہم نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ایسے مواد کی نشاندہی کریں تاکہ اس میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔‘‘

Pakistan Protest Fall Salman Taseer (Aamir Qureshi/AFP/Getty Images)

’’یہ فیصلہ آئین میں دی گئی بنیادی آزادیوں کے خلاف ہے اور ہمیں اس بات پر بھی تشویش ہے کہ اس مسئلے کو لال مسجد والے اٹھا رہے ہیں‘‘


بلاگرز کے حق میں مہم چلانے والے سماجی تحریکوں کی نامور شخصیت فاروق طارق نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’یہ فیصلہ مذہبی جنونیوں کو خوش کرنے کے لیے دیا گیا ہے۔ اس میں بلاگرز کے نام نہیں دیے گئے لیکن پھر بھی ان کی اور ان کے گھر والوں کی زندگیوں کو ایسے فیصلے سے شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ ان بلاگرز کو اٹھا کر غائب کردیا گیا تھا اور بھر پور احتجاج کے بعد ان کی بازیابی ہوئی تھی لیکن اب ایک بار پھر ان کے خلاف مہم شروع کردی گئی ہے۔ عدالت اس معاملے میں بہت آگے تک چلی گئی ہے۔‘‘


تاہم بلاگرسلمان حیدر کے بھائی ذیشان حیدر نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ یہ ایف آئی آر بلاگرز کے خلاف ہے۔ ڈوئچے ویلے کو ایک مختصر تحریری جواب میں انہوں نے کہا، ’’ایف آئی آر نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کی گئی ہے۔ بلاگرزکے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔‘‘


تاہم انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنان کے خیال میں ان مقدمات کا اصل ہدف بلاگرز اور وہ تمام افراد ہیں جو معاشرے میں تنقیدی سوچ اور جمہوری آزادیوں پر یقین رکھتے ہیں۔ انسانی حقوق کمیشن کے اسد بٹ نے اس مسئلے پر اپنے تاثرات ڈوئچے ویلے کو دیتے ہوئے کہا، ’’سب کو پتہ ہے کہ بھینسا، موچی اور روشنی کون چلا رہا تھا۔ ہماری ریاست ہر اس آواز کو دبانا چاہتی ہے جو مختلف ہو یا تنقیدی ہو۔ اگر آپ کو کسی کی تحریر پر اعتراض ہے تو اس کا جمہوری انداز میں جواب دیں۔ پابندیاں لگانا کوئی جمہوری عمل نہیں ہے۔ ہماری ریاست ایک ایسے شخص کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے جس کے خلاف پلاٹ الاٹ کرنے اور کرپشن کے دوسرے الزامات ہیں۔ اس شخص نے ممتاز قادری پر پھول نچھاور کیے۔ ایسے شخص کو کیسے کسی عدالت کا جج مقر ر کیا جا سکتا ہے۔ جب آپ ایسے شخص کو جج لگائیں گے تو فیصلے اسی نوعیت کے آئیں گے۔ یہ جج اپنے خلاف ہونے والی کارروائی کے حوالے سے یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ کیونکہ اس نے اس طرح کے مذہبی فیصلے دیے ہیں اس لیے اس کے خلاف کارروائی ہور ہی ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اس پر کرپشن کے الزامات ہیں۔‘‘


ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’یہ فیصلہ آئین میں دی گئی بنیادی آزادیوں کے خلاف ہے اور ہمیں اس بات پر بھی تشویش ہے کہ اس مسئلے کو لال مسجد والے اٹھا رہے ہیں۔ ریاست مذہبی انتہا پسندوں کے لیے راستہ مزید ہموار کر رہی ہے۔ اس سے ملک میں مذہبی جنونیت اور بڑھے گی اور تنقیدی سوچ رکھنے والوں کے لیے مزید مشکلات پیدا ہوں گی۔‘‘
معروف قانون دان لطیف آفریدی نے اس فیصلے کو ریاستی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا۔ ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ’’یہ فیصلہ نتیجہ ہے اس ریاستی پالیسی کا جس کے تحت ہم نے مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دیا۔ سعودی عرب، کویت اور دوسری ریاستوں سے پیسے لے کر لوگوں کا یہ بتایا کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے۔ اس فیصلے کا اثر یہ ہوگا کہ لوگ ڈر جائیں گے۔ لوگ مُلا، مدرسے اور مذہبی رہنماوں پرتنقید کرنے سے ڈریں گے اور اپنا ایمان دارانہ نقطہء نظر دینے سے ہچکچائیں گے۔‘‘