1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تورا بورا کا علاقہ داعش سے واپس لے لیا، افغان حکام

افغان حکام نے تصدیق کی ہے کہ ملکی سکیورٹی فورسز نے اہم اسٹریٹجک علاقے تورا بورا کو داعش کے جنگجوؤں سے واپس حاصل کر لیا ہے۔ افغانستان کے مشرق میں یہ علاقہ کبھی القاعدہ کے سربراہ اسامہ بِن لادن کا محفوظ ٹھکانہ رہا تھا۔

جہادی گروہ اسلامک اسٹیٹ نے افغان صوبے ننگر ہار میں اپنے حریف گروہ طالبان سے شدید لڑائی کے بعد تورا بورا کے علاقے پر پانچ روز قبل قبضہ کر لیا تھا۔ سرنگوں اور غاروں پر مشتمل تورا بورا کا پہاڑی علاقہ کبھی القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کا محفوظ ٹھکانہ رہا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق اسامہ بن لادن سن 2001 میں امریکی بمباری کے بعد اسی پہاڑی سلسلے سے پاکستان فرار ہوا تھا۔

ننگر ہار کے گورنر کے دفتر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تورا بورا کے علاقے کو مکمل طور پر داعش کے قبضے سے آزاد کرا لیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق،’’ افغان سکیورٹی فورسز نے تورا بورا کے بلند ترین پہاڑو‌ں کو عبور کر کے علاقے  سے داعش کے جنگجوؤں کو بھگا دیا ہے۔ اب افغان افواج الف خیل اور میر خانےکے دیہاتوں کی طرف پیش قدمی کر رہی ہیں تاکہ اس جہادی گروپ کے شدت پسندوں کو مزید پیچھے دھکیلا جا سکے۔‘‘

 افغان صوبے ننگرہار میں امریکی اور افغان افواج سن 2015 سے داعش کے قیام کے بعد سے ہی برسر پیکار رہی ہیں۔ رواں برس اپریل میں امریکا نے ننگر ہار میں ایک سرنگ پر بہت بڑا بم گرایا تھا جس میں افغان وزارت دفاع کے مطابق نوے سے زائد عسکریت پسند ہلاک ہوئے تھے۔ داعش کا سب سے بڑا ٹھکانہ ابھی تک ننگر ہار میں قائم ہے۔

DW.COM