1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

'تنہا مہاجر بچوں کو والدین سے جلد ملایا جائے‘

برطانوی کمشنر برائے اطفال نے فرانسیسی حکومت کو ہفتے کے روز ایک خط میں لکھا ہے کہ وہ اپنے ہاں موجود ان مہاجر بچوں کو اہل خانہ سے ملانے کے لیے جلد کارروائی کریں جو کہ ان سے بچھڑ گئے ہیں اور اس وقت برطانیہ میں مقیم ہیں۔

این لونگ فیلڈ کے مطابق فرانس کے بندرگاہی شہر کَیلے کے مہاجر کیمپوں میں اس وقت کم از کم ڈیڑھ سو بچے ایسے ہیں جو کہ اپنے والدین سے بچھڑ چکے ہیں اور برطانیہ پہنچنا چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ یورپ کے ڈبلن قوانین کے مطابق پناہ کے متلاشی ان بچوں کو یورپی یونین کے ایک ملک سے دوسرے ملک جانے کی اس وقت اجازت حاصل ہوتی ہے جب ان کے والدین دوسرے ملک میں ہوں۔

لونگ فیلڈ کے دفتر کے مطابق فرانسیسی شہر کے کیمپوں میں دس سال تک کے بچے موجود ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جو شام جیسے ملکوں میں جاری جنگوں سے بچ کر آئے ہیں۔

مشرق وسطیٰ کے شورش زدہ مالک، بالخصوص شام اور عراق سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ نقل مکانی کر کے یورپ پہنچ رہے ہیں، جس سے اس براعظم میں بحران کی سی کیفیت پیدا ہو گئی۔ ان میں زیادہ تر افراد یونان پہنچ رہے ہیں، تاہم ان کی منزل مغربی یورپی ممالک ہوتے ہیں۔

صورت حال کے بابت لونگ فیلڈ کا کہنا تھا: ’’میں نے فرانسیسی حکام کو خط میں لکھا ہے کہ وہ اس بات کا جلد تعین کریں کہ کَیلے کے کیمپوں میں کون سے ایسے بچے ہیں جو برطانیہ پہنچنے کا استحقاق رکھتے ہیں۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ کیمپ خاندان سے بچھڑے ہوئے بچوں کے لیے ’’انتہائی خطرناک جگہ‘‘ ہے۔

ان کے مطابق کیمپوں میں موجود یہ بچے انسانی اسمگلروں کے ہاتھ لگنے کے علاوہ، تشدد، جنسی زیادتی اور بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں۔ بعض بچے ٹرکوں میں چھپ کر برطانیہ پہنچنے کی کوشش کر چکے ہیں۔