1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تنخواہیں غیر یقینی، افغانستان میں امریکی فوجی پریشان

امریکہ میں قومی قرضوں کی حد میں اضافے کے مسئلے پر تعطل جہاں عالمی سطح پر پریشانی کا باعث بن گیا ہے وہیں افغانستان میں تعینات امریکی فوجی بھی اب مخمصے کا شکار ہوگئے ہیں کہ آیا آئندہ ماہ ان کی تنخواہیں وقت پر مل سکیں گی۔

default

امریکہ کے چیئر مین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ایڈمرل مائیک مولن

امریکہ کے چیئر مین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ایڈمرل مائیک مولن نے آج ہفتے کو افغانستان میں امریکی فوجیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی قرضوں کی نئی حد کے تعین کے سلسلے میں امریکی کانگریس میں جو جمود جاری ہے، اس تناظر میں ابھی تک یہ امر غیر واضح ہے کہ افغانستان متعینہ امریکی دستوں کو اگست میں بروقت تنخواہیں مل سکیں گی یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پینٹاگون اس صورتحال میں کوئی حکمت عملی تیار کرنے کی کوشش میں ہے تاہم اس وقت صورتحال غیر معمولی ہے اور یقین سے کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔

جنوبی افغانستان میں قندھار ایئر بیس پر امریکی فوجیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے ایڈمرل مائیک مولن نے اس حوالے سے کہا، ’ایمانداری کی بات یہ ہے کہ اس مخصوص وقت پر میں اس بارے میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتا‘۔ افغانستان اور عراق میں تعینات امریکی فوجیوں کو ممکنہ طور پر بر وقت تنخواہ نہ ملنے کا مسئلہ انتہائی حساس تصور کیا جا رہا ہے۔ اعلیٰ ترین امریکی فوجی اہلکار مائیک مولن نے بھی اعتراف کیا ہے کہ بہت سے فوجی صرف تنخواہ پر ہی گزارہ کرتے ہیں،’ اگر ان کی تنخواہ رکی تو اس کے انتہائی تباہ کن نتائج برآمد ہوسکتے ہیں‘۔

Flash-Galerie Wahlen in Afghanistan 2009

افغانستان میں تعینات امریکی فوجی، فائل فوٹو

اس موقع پر مائیک مولن نے اس یقین کا اظہار کیا کہ کچھ بھی ہو، فوجیوں کو آخر کار ان کی تنخواہیں ضرور ملیں گی۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار بھی کیاکہ تاخیر کی صورت میں ان فوجیوں کو ان کی تنخواہوں کے ساتھ جائز حد تک تلافی رقوم بھی ادا کی جائیں گی۔ انہوں نے البتہ یہ بھی کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ یہ کام کس طرح اپنی تکمیل کو پہنچے گا۔

ہفتے کے روز ہی ہلمند میں امریکی فوج کی ایک دوسری کمان کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ایڈمرل مولن نے اس امکان کو رد کر دیا کہ اس مخصوص صورتحال میں ان کی فوجی حکمت عملی پر کوئی فرق پڑے گا یا امریکی محمکہء دفاع عارضی طور پر اپنے عسکری آپریشن روک دے گا۔

دوسری طرف امریکی کانگریس میں پارلیمانی ارکان کے ایک گروپ کی کوشش ہے کہ وہ ایک ایسا بل منظور کروا لے، جس کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ سرکاری قرضوں کی حد کے تنازعے میں تعطل کے باوجود حاضر سروس فوجیوں کو ان کی تنخواہیں بر وقت ادا کی جا سکیں۔ تاہم وائٹ ہاؤس یا وزارت خزانہ نے ابھی تک اس حوالے سے کوئی یقین دہانی نہیں کروائی۔

ادھر بیجنگ میں چینی حکومت نے امریکی کانگریس میں قومی قرضوں کی حد میں اضافے سے متعلق سیاسی تعطل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق اس حوالے سے غیر ذمہ دارانہ قانونی تاخیر سے عالمی معیشت کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

قبل ازیں جمعہ کو امریکہ کی ڈیموکریٹک ارکان کی اکثریت والی سینیٹ نے ایوان نمائندگان کی جانب سے ریاستی قرضوں کی حد بڑھانے کے لیے منظور کیا گیا قانونی بل مسترد کر دیا تھا۔ اس بل پر دونوں پارلیمانی ایوانوں میں اتفاق نہ ہونے کی بعد اب توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ ریاستی قرضوں کی حد میں عارضی طور پر اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

واشنگٹن حکومت خبردار کر چکی ہے کہ اگر حکومت اور اپوزیشن کے مابین ریاستی قرضوں کی نئی حد کے تعین پر اتفاق نہ ہوا تو دو اگست کے بعد اس کے پاس سرکاری ادائیگیوں کے لیے رقم نہیں ہو گی۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس