1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

تنازعہ سیاچن گلیشیئر: ماحولیاتی تباہی کا باعث

پاکستان اور بھارت کے مابین متعدد تنازعات ہیں، ان میں سے ایک سیاچن گلیشیئر بھی ہے۔ یہ تنازعہ جنوبی ایشا کےکئی ممالک میں ماحولیاتی تبدیلیوں کا باعث بن رہا ہے۔

default

سیاچن گلیشیئر آہستہ آہستہ پگھل رہا ہے۔ تحفظ ماحول کے لئے سرگرم افراد خبردار کر رہے ہیں کہ مسئلے پر قابو نہ پایا گیا تو جنوبی ایشیا کے لاکھوں افراد کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

سیاچن زمین پر موجود دوسرا بڑا گلیشیئر ہے۔ اس کے علاوہ دنیا کا سب سے اونچا میدان جنگ بھی ہے۔ زمین سے چھ ہزار فٹ کی بلندی پر جہاں پاکستانی اور بھارتی افواج ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں، وہاں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں اور بہت جلد ہی اسے دنیا کے آلودہ ترین گلیشیئر کا خطاب بھی دیا جا سکتا ہے۔

بھارت میں توانائی اور وسائل کے ایک ادارے TERIسے وابستہ پروفیسر سید اقبال حسنین کا کہنا ہے کہ سیاچن گلیشیئر پر فوج کی موجودگی صورتحال کو اور بھی سنگین بنا رہی ہے: 'گلیشیئر پر بڑی تعداد میں فوجیوں کی موجودگی سے وہاں درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وہاں مشنیوں کی موجودگی سے پیدا ہونے والی حرارت اور کوڑا کرکٹ براہ راست گلیشئر پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔ لہٰذا سارے ماحول کو نقصان پہنچ رہا ہے۔'

سیاچن ستّر کلومیٹر طویل ہے اور اس پر تیس ہزار فوجی تعینات ہیں۔ یہ تنازعہ ہمالیہ میں موجود دیگر گلیشیئر کے لئے بہت خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ اسلام آباد میں دیرپا ترقی سے متعلق ادارے کے محقق ارشد عباسی

Kaschmir Konflikt Karte

سیاچن گلیشئر کا تنازعہ پاکستان اور بھارت کے درمیان متعدد مسائل میں سے ایک ہے

کہتے ہیں کہ پاکستانی اور بھارتی افواج بنکرز اور ہیلی پیڈ بنانے کے لئے برف کی موٹی تہہ کوکاٹتی ہے اور اس مقصد کے لئے ایک خاص قسم کا کیمیکل استعمال کیا جاتا ہے: 'جیسے ہی حد مقرر کو پار کرتے ہیں تو گلیشئر پر بہت بڑی تعداد میں فوجی دکھائی دیتے ہیں۔ وہاں بہت سے اڈے بنے ہوئے ہیں۔ بھارت نے مٹی کے تیل کی ایک پائپ لائن بچھائی ہوئی ہے، جو ایک سو پینسٹھ کلومیٹر طویل ہے۔ اگر آپ سیاچن کی سیٹیلائٹ تصاویر دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ فوجیوں نے اسے ایک کچی آبادی میں تبدیل کر دیا ہے۔'

پاکستان اور بھارت میں تحفظ ماحول کے لئے سرگرم افراد اور امن کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ گلیشیئر کو غیر فوجی علاقہ بنا کر امن پارک میں تبدیل کر دیا جائے۔ انڈین ایکسپریس اخبار کے مدیر اعلٰی شیکھر گپتا کہتے ہیں: 'اگر دونوں ممالک اعتماد کی فضا قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو سیاچن تو ایک بہت خاص جگہ ہے ، جو اتنی بلندی پر ہونے کے باوجود قابل رسائی ہے۔ میرے خیال میں سیاچن امن پارک ایک بہت اچھا خیال ہے۔'

تحفظ ماحول کی تنظیموں کے مطابق سیاچن تنازعہ کا حل تلاش کرنا انتہائی ضروری ہے ۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو جنوبی ایشیا کے متعدد مملک تباہ کن سیلابوں اور خشک سالی کا شکار ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ: دیباراتی مکھرجی/ عدنان اسحاق

ادارت: ندیم گِل

DW.COM