1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

تمباکو نوشی کے خلاف اقدامات، عالمی برادری متفق

عالمی ادارہ صحت WHO کے زیرانتظام یوراگوائے میں ہونے والی ایک کانفرنس میں اقوام متحدہ کے 172 رکن ممالک سے تعلق رکھنے والے وفود نے تمباکو نوشی کے استعمال اور فروخت کے حوالے سے سخت اقدامات پر اتفاق کیا ہے۔

default

Jugendliche Mädchen rauchen Zigarette Krebs Krebsrisiko Zigarettenkonsum Anti-Raucher-Kampagne

مختلف ذائقوں کی مدد سے نوجوانوں کو سگریٹ نوشی کی طرف راغب کیا جاتا ہے

عالمی ادارے کے زیراہتمام ہونے والی اس کانفرنس میں دنیا بھر سے مدعو کئے گئے اعلیٰ وفود نے اپنے اپنے ملکوں میں تمباکو سے متعلقہ اشیاء کی فروخت کی حوصلہ شکنی کے لئے مشترکہ اقدامات پر اتفاق ظاہر کیا۔ ان وفود نے تمباکو کے حوالے سے عالمی ادارے کے فریم ورک کنوینشن پر دسختط کئے۔ جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے اس کانفرنس Thamsanqa Dennis Mseleku نے اس کانفرنس کی صدارت کی۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ دنیا بھر میں تمباکو مصنوعات کی حوصلہ شکنی ایک انتہائی اہم قدم ہوگا، جس کے بالواسطہ عالمی معیشت پر بھی انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

یہ کانفرنس اس سلسلےکی چوتھی عالمی میٹنگ تھی۔ تمباکو کی صنعت کی لابینگ کے باوجود اس ملاقات میں عالمی سطح پر تمباکومصنوعات میں استعمال ہونے والے کیمیکلز کے حوالے سےسخت گائیڈلائنز طے کی گئیں۔ ان ضوابط کی حمایت کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ تمباکو کی صنعت نوجوانوں کو سگریٹ نوشی کی ترغیب دینے کے لئے اپنی مصنوعات میں طرح طرح کے مصنوعی ذائقے استعمال کرتی ہے۔

Frankreich Rauchen verboten Schild

دنیا بھر کے ممالک نے اس حوالے سے قانون سازی کا بھی وعدہ کیا ہے

اس کانفرنس کی انتظامیہ میں شامل اعلیٰ عہدیدار Antoon Opperhuizen کے مطابق : ’’سگریٹ میں سینکڑوں مختلف کیمیائی مادے اور اجزاء استعمال کئے جاتے ہیں۔ ان کے استعمال کا مقصد زیادہ سے زیادہ افراد کو اپنی طرف راغب کرنا ہوتا ہے، جن میں خصوصی طور پر نوجوان شامل ہیں۔‘‘

اس کانفرنس میں شامل وفود نے ملاقات میں طے پانے والے ضوابط کو ملکی صحت عامہ کے نظام میں فوری طور پر نافذ کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس کانفرنس میں عوام الناس میں تمباکو نوشی کے خلاف آگہی کی موثر مہم پر بھی اتفاق ظاہر کیا گیا۔

کینیڈاکی کینسر سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے ایک سینئیر تجزیہ کار کے مطابق اس ملاقات میں ضوابط اس طرح سے طے کئے گئے ہیں کہ دنیا بھر کے ممالک اپنے اپنے قوانین میں اس کے مطابق ترامیم لائیں تاکہ شہریوں کی زندگیوں کو زیادہ سے زیادہ تندرست بنایا جا سکے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس