1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

تمباکو نوشی چینی مستقبل کو دھواں دھواں کر رہی ہے

ایک تازہ طبی جائزے کے مطابق مستقل میں ہر تین چینی نوجوانوں میں سے ایک کی موت سگریٹ یا تمباکو نوشی سے ہو سکتی ہے۔ چین کے دوتہائی نوجوانوں میں تمباکونوشی کی عادت عام ہو چکی ہے۔

ایک تازہ طبی ریسرچ کے مطابق چین میں دو تہائی نوجوانوں میں سگریٹ نوشی ایک معمول کی عمل ہے اور وہ اِسے اپنی عادت بنا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چین میں بیشتر نوجوان بیس برس سے کم عمر ہی میں سگریٹ پینا شروع کر دیتے ہبں۔ اس رپورٹ کے محققین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ اگر سگریٹ نوشی کا رجحان اِسی انداز میں آگے بڑھتا رہا تو مستقبل میں تین میں سے ایک چینی نوجوان کی موت سگریٹ یا تمباکو نوشی سے ہو سکتی ہے۔

چینی نوجوانوں بارے میں اس ریسرچ میں برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کے محققین کے ساتھ چینی اکیڈیمی برائے میڈیکل سائنسز اور بیماریوں کے کنٹرول کے قومی چینی مرکز کے ریسرچرز بھی شامل تھے۔ یہ ریسرچ رپورٹ حال ہی میں معتبر طبی جریدے لانسیٹ میں شائع کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر چینی حکومت نے جلد اور انتہائی سنجیدگی کے ساتھ سگریٹ یا تمباکو نوشی میں کمی پیدا کرنے کے مناسب اقدامات نہ کیے تو بے شمار افراد تمباکونوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں مبتلا ہو کر وقت سے قبل ہی موت کا ترنوالہ بن جائیں گے۔

China Raucher Rauchen Gesundheit Weltnichtrauchertag

چین میں رواں برس یکم جون سے پبلک مقامات پر تمباکو نوشی ممنوع قرار دے دی گئی ہے

اِس ریسرچ کے شریک مصنف لیمنگ لی نے بتایا کہ ریسرچ کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد بڑی عمر اور نوجوانوں میں تمباکو نوشی کے رجحانات کا تقابلی جائزہ لیا گیا۔ کئی نوجوانوں نے بتایا کہ انہوں نے بیس سال سے کم عمر ہی میں سگریٹ نوشی شروع کر دی تھی۔ چینی اکیڈیمی برائے میڈیکل سائنسز کے ریسرچر لیمنگ لی کے مطابق یہ اہم ریسرچ پندرہ پندرہ برسوں کے دو عرصوں پر محیط ہے۔ پہلی اسٹڈی سن 1990میں مکمل کی گئی تھی اور دوسری اگلے پندرہ برسوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ اِن دونوں ریسرچز میں ڈھائی ڈھائی لاکھ افراد کو شامل کیا گیا۔ پہلی ریسرچ میں نوجوانوں کے علاوہ چالیس سے اناسی برس کی عمر کے لوگ بھی شامل تھے۔

اِس ریسرچ سے معلوم ہوا ہے کہ چین میں سالانہ بنیادوں پر تمباکو نوشی سے ہونے والی ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ سن 2010 میں تمباکو نوشی سے لاحق ہونے والی بیماریوں سے دس لاکھ چینی ہلاک ہوئے تھے۔ ریسرچ کے مطابق اگر یہی رجحان جاری رہا تو سن 2030 میں ایسی ہلاکتوں کی تعداد بیس لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ چینی خواتین میں تمباکو نوشی اور اِس سے منسلک بیماریوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔

بین الاقوامی ریسرچرز اور طبی سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ہر سال ساری دنیا میں مختلف عمروں کے چھ ملین لوگ تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہو کر موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔