1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

تمباکو نوشی اس سال چھ ملین انسانوں کی جان لے گی

عالمی ادارہ ء صحت کے مطابق رواں سال تمباکو نوشی چھ ملین انسانوں کی ہلاکت کا سبب بنے گی۔ اس عالمی ادارے نے سگریٹ نوشی کو انسانی تاریخ میں صحت عامہ کو لاحق سب سے بڑے خطرے کا نام دیا ہے۔

default

ڈبلیو ایچ او کی جانب سے جاری کردہ Global Tobacco Epidemic کہلانے والی اپنی نوعیت کی تیسری رپورٹ کے مطابق اب بھی ایک ارب سے زائد افراد اس لت میں مبتلا ہیں۔ اس ادارے سے منسلک ماہر امراض نفسیات Ala Alwan کے بقول تمباکو نوش انسانوں کی اکثریت کا تعلق پسماندہ ممالک سے ہے۔

دنیا میں اس وقت انیس ممالک کے شہری ایسے قوانین کے مطابق زندگیاں گزار رہے ہیں، جو سگریٹ تیار اور فروخت کرنے والی کمپنیوں کو پابند بناتے ہیں کہ وہ سگریٹ کے ہر پیکٹ پر اس کے مُضر صحت ہونے سے متعلق نمایاں انتباہی تصاویر یا پیغامات شائع کریں۔ عالمی ادارہء صحت کے مطابق قابل افسوس بات یہ ہے کہ بہت سے ممالک ایسے بھی ہیں، جو سگریٹ نوشی کے خاتمے یا اس کی شرح میں کمی کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کر رہے۔

اقوام متحدہ سے منسلک اس ادارے کے مطابق سگریٹ کے ہر پیکٹ پر نمایاں انتباہی تصاویر اس ضمن میں خاصی مفید ثابت ہورہی ہیں اور تمباکو نوشی نہ کرنے والے لوگوں میں سگریٹ نوشی کی جانب مائل ہونے کا رجحان گھٹ رہا ہے۔ سگریٹ فروخت کرنے والی کمپنیوں پر حالیہ دنوں میں ایسے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے کہ وہ ترقی پزیر ممالک میں سگریٹ نوشی کو معاشی خوشحالی کی علامت کے طور پر پیش کر رہی ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایسے معاشروں میں خواتین کو بھی سگریٹ نوشی کی جانب راغب کیا جا رہا ہے۔

Rauchverbot in der Türkei

ترکی میں تمباکونوشی کی ممانعت سے متعلق ایک اشتہار

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ کثرت سے سگریٹ نوشی کرنے والے افراد کو پھیپھڑوں کا جان لیوا کینسر بھی لاحق ہوسکتا ہے اور وہ عارضہء قلب میں بھی مبتلا ہوسکتے ہیں۔ The World Lung Foundation نے ڈبلیو ایچ او کی حالیہ رپورٹ میں انتباہی تصاویر کے حوالے سے کی گئی پیشرفت کو سراہا ہے۔ اس تنظیم کے مطابق افسوس کی بات ہے کہ دنیا میں قریب 150 ممالک ایسے ہیں جہاں انسداد تمباکو نوشی کے ضمن میں عوامی آگہی کے لیے وسیع پیمانے پر کام نہیں کیا جا رہا۔

واضح رہے کہ آسٹریلیا کی حکومت ایسی قانون سازی کر رہی ہے، جس کے بعد سگریٹ ایک ایسے سادہ ڈبے میں فروخت کیے جائیں گے جس پر کسی برانڈ کا نام نہیں ہوگا۔ پاکستان میں بھی حال ہی میں عوامی مقامات اور روزگار کی جگہوں پر سگریٹ نوشی پر پابندی عائد کر دی گئی تھی تاہم اس قانون پر مؤثر انداز میں عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ اسی طرح بعض ممالک نے سگریٹ کی فروخت پر محصولات میں اضافہ کیا ہے جبکہ بعض دیگر نے عوامی ذرائع ابلاغ پر تمباکو کی مصنوعات کے اشتہارات پر پابندی عائد کر دی ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس