تمام مہاجرين کو برا مت سمجھا جائے، اقوام متحدہ | مہاجرین کا بحران | DW | 13.08.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

تمام مہاجرين کو برا مت سمجھا جائے، اقوام متحدہ

عالمی سطح پر کيے جانے والے رائے عامہ کے ايک جائزے ميں شامل نصف سے زائد افراد کا ماننا ہے کہ داعش کے جنگجو مہاجرين کے طور پر شناخت اختيار کر رہے ہيں۔ اقوام متحدہ نے تمام مہاجرين کو برا سمجھنے کے خلاف انتباہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ہائی کميشن برائے مہاجرين (UNHCR) کی جانب سے کہا گيا ہے کہ گرچہ سکيورٹی کے حوالے سے سامنے آنے والے خطرات باعث فکر ہيں تاہم اس کے باوجود تشدد اور ظلم و ستم سے پناہ کے ليے فرار ہونے والوں کو تحفظ فراہم کيا جانا بھی لازمی ہے۔

عالمی تنظيم کے اس ذيلی ادارے نے يہ بيان رائے عامہ کے ايک تازہ جائزے کے نتائج کی روشنی ميں ديا، جن کے تحت اس پول ميں شامل ساٹھ فيصد افراد کو خدشہ ہے کہ مشرق وسطیٰ ميں سرگرم دہشت گرد تنظيم اسلامک اسٹيٹ کے جنگجو مختلف ممالک تک رسائی حاصل کرنے کے ليے مہاجرين کا روپ دھار رہے ہيں۔

DW.COM

يورپ کو ان دنوں دوسری عالمی جنگ کے بعد اپنی تاريخ کے مہاجرين کے بدترين بحران کا سامنا ہے۔ سياسی وجوہات کے علاوہ شام، عراق اور افغانستان جيسے ممالک ميں اسلامک اسٹيٹ يا داعش اور ديگر عسکريت پسند تنظيموں کے تشدد سے فرار ہو کر ايک ملين سے زائد افراد نے گزشتہ برس اپنے ممالک ترک کيے اور سياسی پناہ کے ليے يورپ کا رخ کيا۔

’Ipsos MORI‘ نامی ادارے نے مہاجرين کے حوالے سے عام لوگوں کے تاثرات جاننے کے ليے بائيس مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے تقريباً سولہ ہزار افراد سے ان کی رائے جانی۔

ساٹھ فيصد لوگوں کی رائے يہی ہے کہ داعش کے شدت پسند مہاجرين کی شناخت اختيار کر رہے ہيں۔ جائزے ميں شامل چاليس فيصد لوگوں نے مہاجرين کے ليے اپنے ممالک کی سرحدوں کی بندش کے حق ميں رائے دی۔ سرحدوں کی بندش کے معاملے پر سب سے زيادہ عوامی حمايت ترکی، بھارت اور مشرقی يورپی رياست ہنگری ميں ديکھی گئی۔

جائزے ميں شامل تمام ممالک کے شہريوں کے مطابق پچھلے پانچ برسوں کے دوران ہجرت ميں اضافہ ريکارڈ کيا گيا ہے۔ تقريباً نصف تعداد کا يہ بھی ماننا ہے کہ ہجرت کے ان کے ممالک پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہيں۔ صرف چاليس فيصد يہ سمجھتے ہيں تارکين وطن ان کے معاشروں ميں کاميابی کے ساتھ ضم ہو سکيں گے۔

عالمی سطح کے اس جائزے کے نتائج پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے برطانوی دارالحکومت لندن ميں UNHCR کی مقامی شاخ کے ترجمان وليم اسپنڈلر نے خبر رساں ادارے تھامسن روئٹرز فاؤنڈيشن سے بات چيت کرتے ہوئے کہا، ’’کسی بھی ملک کے عوام کی طرح مہاجرين کی صفوں ميں بھی جرائم پيشہ افراد شامل ہيں اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہيے۔‘‘

يورپ کو ان دنوں دوسری عالمی جنگ کے بعد اپنی تاريخ کے مہاجرين کے بدترين بحران کا سامنا ہے

يورپ کو ان دنوں دوسری عالمی جنگ کے بعد اپنی تاريخ کے مہاجرين کے بدترين بحران کا سامنا ہے

تاہم وليم اسپنڈلر نے يہ بھی واضح کيا کہ عالمی سطح پر پائے جانے والے لاکھوں مہاجرين کی بھاری اکثريت قانون کا احترام کرتی ہے۔ ان کے بقول تمام مہاجرين کو برا نہيں سمجھا جانا چاہيے کيونکہ يہ حقيقت نہيں ہے۔

وليم اسپنڈلر نے اپنی بات چيت کے دوران کہا کہ پول ميں شامل اکثريتی افراد مہاجرين کو درپيش مشکلات اور انہيں درکار تحفظ سے آگاہ ہيں۔ ان کے بقول عالمی سطح پر ايک بہت بڑی تعداد ميں لوگ يہ تائيد کرتے ہيں کہ پناہ کے متلاشی افراد کو تحفظ فراہم کيا جانا چاہيے اور يہ لوگ پناہ گزينوں کے ليے اپنے ممالک کی سرحديں بند کر ديے جانے کے حق ميں نہيں۔