1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تمام مسائل کی جڑ فوج اورآئی ایس آئی ہے، سردار مینگل

بزرگ سیاستدان اورسابق وزیراعلی بلوچستان سردارعطاءاللہ مینگل نے بلوچستان میں تمام مسائل کی جڑ فوج اورآئی ایس آئی کو قراردیتے ہوئے مسئلہ کے حل کے لیے تین تجاویز پیش کردی ہیں۔

کراچی میں ڈوئچے ویلے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سردارعطاءاللہ مینگل نے کہا، ’’بلوچوں کو پوائنٹ آف ریٹرن پر پہنچا دیا گیا ہے، پاکستان کی جغرافیائی حدود میں رہ کر بلوچوں کو اب حقوق نہیں مل سکتے۔ بلوچوں نے طے کرلیا ہے کہ اب انہیں پاکستان کے ساتھ نہیں رہنا۔

سردارعطاءاللہ مینگل کا کہنا ہے کہ نوازشریف ان سے ملنے آئے تھے، اس قبل وزیراعظم گیلانی بھی ملے تھے،ان پر واضح کردیا ہے کہ نوازشریف سمیت کوئی سیاستدان سیاست میں فوج مداخلت کا خاتمہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے مسئلہ کے حل کے لیے نوازشریف اس لیے کچھ نہیں کرسکتے کہ ان پہاڑوں پر موجود بلوچ نوجوانوں سے رابطے نہیں ہیں۔

Atta Ullah Mengal in Karachi

عطا اللہ مینگل ڈوئچے ویلے کے نمائندے رفعت سعید سے خصوصی بات چیت کے دوران

سردارعطاءاللہ منیگل کا کہنا ہے کہ سیاست میں فوج کی مداخلت کا سلسلہ جاری رہا تو پاکستان دولخت ہوجائے گا۔ فوج نے جو رویہ بنگالیوں کے ساتھ روا رکھا وہی بلوچوں کے ساتھ روا رکھے ہوئے ہے۔ آئے روز بلوچ نوجوانوں کا اغوا، مسخ شدہ لاشوں کا ملنا اوربلوچوں کی نسل کشی مشرقی پاکستان کے مظالم بلوچستان میں دہرائے جارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جس دن بلوچستان کی بلائیں پاکستان کو لگ گئیں اسے ٹوٹنے سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔

سردارعطاءاللہ مینگل نے بلوچ عسکریت پسندوں کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ وہ مظالم کے خلاف لڑسکتے ہیں تو خوب لڑیں اور ڈٹ کرلڑیں، وگرنہ اپنی ماؤں کو نہ رلائیں اوراپنے خاندانوں کو اذیت میں نہ ڈالیں۔

بلوچستان پیکیج اوررحمٰن ملک کی مذاکرات کی پیشکش پر اپنا ردعمل ظاہرکرتے ہوئے سردارعطاءاللہ مینگل کا کہنا تھا کہ رحمٰن ملک کو کوئی بتائے کہ جو جان نچھاورکرنے کے لیے لڑرہے ہیں وہ حجام سے کیا مذاکرات کریں گے۔ آئی ایس آئی نے بلوچستان کو تباہی کے دہانے پر پہنچادیا ہے، بلوچ نوجوان اب ہمارے کنٹرول میں نہیں ہیں۔

عطاءاللہ مینگل کا کہنا تھا کہ میرے بدن میں طاقت نہیں وگرنہ میں بھی پہاڑوں پر ہوتا۔ تنازعہ بلوچستان کے حل کے لیے تین تجاویز پیش کرتے ہوئے سردارعطاءاللہ مینگل نے کہا کہ بلوچستان سے اغوا کیے جانے والے تمام نوجوانوں کو رہا کیا جائے، دوم یہ کہ فوری طورپر بلوچستان سے فوج واپس بلائی جائے جبکہ بلوچستان میں نوجوانوں کے اغوا اورقتل میں ملوث فوجی اہلکاروں کے خلاف عدالتوں میں مقدمات چلانے کی شرط عائد کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے کم اب بلوچستان کے تنازعہ کے حل کے لیے کچھ نہیں کیا جا سکتا، مسئلہ بلوچستان خالی پیکیجز سے کبھی حل نہیں ہو گا۔

رپورٹ: رفعت سعید،کراچی

ادارت:عصمت جبیں

DW.COM