تلور کا شکار: عدالتی انصاف یا شہزادوں کی خواہش کا احترام؟ | حالات حاضرہ | DW | 22.01.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تلور کا شکار: عدالتی انصاف یا شہزادوں کی خواہش کا احترام؟

پاکستانی سپریم کورٹ نے اپنے ہی فیصلے کے خلاف درخواستوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے کثرت رائے سے نایاب پرندے تلور کے شکار پر عائد پابندی ختم کر دی ہے۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے تلور کے شکار پر پابندی کے خلاف وفاقی کے ساتھ ساتھ سندھ، پنجاب اور بلوچستان کی صوبائی حکومتوں کی نظر ثانی کی درخواستوں پر دو جنوری کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ پانچ رکنی بینچ میں شامل سینیئر جج جسٹس ثاقب نثار نے تلور کے شکار پر پابندی کے خاتمے کا اپنا تحریر کیا ہوا فیصلہ جمعے کی صبح کھلی عدالت میں پڑھ کر سنایا۔ فیصلے کے مطابق پاکستان کے آئین کی بنیاد اختیارات کی تثلیث پر ہے۔ ریاست کے ہر ستون کا اپنا دائرہ اختیار ہے اور وہ دوسرے کے اختیارات میں مداخلت نہیں کر سکتا۔ عدالت کا کام قانون کی تشریح کرنا ہے نہ کہ قانون سازی کرنا۔

Kragentrappe Vogel

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قانون کا جائزہ لے کر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ تلور پر مستقل پابندی مقصود نہیں۔ صوبائی قوانین میں تلور کو قابل شکار پرندہ قرار دیا ہے۔ فیصلے کے مطابق یہ صوبوں کی صوابدید ہے کہ وہ کس پرندے کے شکار پر پابندی لگائے اور کس پرندے کے شکار کی اجازت دیں۔ حکومت کی جانب سے شکار کے لیے پرمٹ جاری کرنے کے طریقہ کار سے عدالت کو آگاہ نہیں کیا گیا اور اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ تلور کے شکار پر پابندی کے خاتمے کے لیے پانچ میں سے چار ججوں نے فیصلہ دیا جبکہ ایک جج جسٹس قاضی فائز عیسی نے اختلافی نوٹ تحریر کیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسی اس تین رکنی بینچ کا بھی حصہ تھے جس نے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں گزشتہ سال اگست میں ملک بھر میں تلور کے شکار پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔ عدالت نے یہ فیصلہ تلور کے غیر قانونی شکار کو روکنے کے لیے ایک بزنس مین عامر ظہور الحق کی درخواست پر دیا تھا جب کہ عدالت نے تلور کے شکار پر پابندی کے سندھ اور بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلوں کے اجازت خلاف صوبائی حکومتوں کی اپیلیں بھی خارج کر دی تھیں۔ جمعے کو عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں تلور کے شکار پر عائد پابندی کے خلاف صوبائی حکومتوں کی اپیلوں کو دوبارہ سماعت کے لیے منظور کر لیا۔

اس مقدمے کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے تلور کے شکار کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ تلور کے شکار سے نہ صرف پاکستان کے لیے عرب ممالک کی خیر سگالی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ خلیجی ممالک پاکستان میں سرمایہ کاری بھی کرتے ہیں۔ عدالت کو آگاہ کیا گیا تھا کہ تلور کو پاکستان میں معدوم ہونے کا خطرہ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ صوبائی حکومتوں کی جانب سے بھی وکلاء نے تلور کے شکار پر سے پابندی اٹھانے کے حق میں دلائل دیے تھے۔ عدالتی فیصلے پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ عالمی معاہدوں کے تحت حکومت پاکستان تلور کے شکار کی اجازت نہیں دے سکتی۔

سپریم کورٹ میں تلور کے شکار پر پابندی کے حق میں ایک درخواست گزار کی پیروی کرنے والے وکیل راجہ فاروق کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے سے تلور کی نسل کو معدوم ہونے سے بچانے کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بون کنونشن اور اقوام متحدہ کے ماحولیاتی تحفظ اور دیگر عالمی معاہدوں کے تحت نایاب نسل کے پرندوں کی حفاظت کا ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا،"وفاقی اور صوبائی حکومتیں پہلے ہی ان معاہدوں کی خلاف ورزی کر رہی تھیں اور اب عدالتی فیصلے کے بعد انہیں ایسا کرنے کے لیے کھلی چھوٹ مل جائے گی۔" انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے تلور پر پابندی عائد کرنے کے پہلے فیصلے کو جانوروں اور پرندوں کے تحفظ کے لیے کام کرنیوالوں کی طرف سے عالمی سطح پر پذیرائی ملی تھی۔

ہر سال ستمبر سے فروری کے دوران سائبیریا سے ہزاروں کی تعداد میں تلور ہجرت کر کے پاکستان کے چاروں صوبوں کے مخلتف علاقوں میں موسم سرما گزارنے آتے ہیں۔ مختلف اندازوں کے مطابق ہجرت کرنے والے ان پرندوں کی تعداد عام طور پر آٹھ سے دس ہزار تک ہوتی تھی جو اب کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ یہاں آنے والے پرندوں میں سے ہزاروں کو مقامی اور غیر ملکی شکاریوں خصوصاﹰ خلیجی ممالک کے شاہی خاندانوں کے ارکان کی طرف سے شکار کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔

راجہ فاروق کے مطابق سن دو ہزار چودہ میں دفتر خارجہ نے تلور کے شکار کے لیے تینتیس پرمٹ جاری کیے۔ ایک پرمٹ میں ایک سو پرندوں کے شکار کی اجازت ہوتی ہے۔ راجہ فاروق کے مطابق صرف ایک دن میں بائیس سو تلور شکاریوں کا نشانہ بنے۔

پاکستان میں تلور کے شکار کے لیے نہ صرف بندوقوں کا استعمال کیا جاتا ہے بلکہ عرب شہزادے اپنے ہمراہ لائے جانے والے باز بھی تلور کے شکار کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جنگلی حیات اور پرندوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے مطابق مارے جانے والے تلور کے علاوہ عرب شکاری بہت سے تلور اپنے ہمراہ زندہ بھی لے جاتے ہیں جنہیں شکاری بازوں کو سدھانے اور شکار کی تربیت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔