1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

تقسیم ہند، پاکستان میں متنازعہ کتابیں اور ردعمل

بھارت کے ممتاز سیاسی رہنما جسونت سنگھ کی کتاب میں محمد علی جناح کے حوالے سے درج کئے جانے والے ستائشی کلمات پر بھارت اور پاکستان دونوں جانب بحث و مباحثے جاری ہیں۔

default

بانیء پاکستان محمد علی جناح کی ایک تاریخی تصویر

بھارتی ریاست گجرات میں اس کتاب کی فروخت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ جسوت سنگھ کو ان کی اپنی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے بھی نکال دیا گیا ہے۔ اخبارات میں شائع ہونے والے اس کتاب کے بعض اقتباسات کے مطابق اس کتاب میں جسوت سنگھ نے کہا ہے کہ قائد اعظم ایک قوم پرست رہنما تھے اور وہ ہندوستان کی تقسیم نہیں چاہتے تھے اور جواہر لال نہرو بھی تقسیم ہند کے ذمہ دار ہیں۔

جسونت سنگھ کی طرح پاکستان میں بھی کئی مصنفین ایسے ہیں جنہوں نے قومی اور سرکاری موقف سے انحراف کرتے ہوئے تقسیم ہند کے حوالے سے مختلف نقطہ ہائے نظر پیش کئے ہیں۔

Jaswant Singh

جسونت سنگھ کو بھارتیہ جنتا پارٹی سے بے دخل کر دیا گیا ہے

ممتاز محقق ڈاکٹر صفدر محمود نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ پاکستان میں ایسی بہت سی کتابیں چھپی ہیں جہاں آزادی اظہار کے نام پر پاکستان، تحریک پاکستان اور بانی پاکستان کو ہدف تنقید بنایا جاتا رہا ہے۔ ان کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ ولی خان کی کتاب ’’حقائق حقائق ہیں‘‘ میں تقسیم ہند کے حوالے سے پاکستان کے قومی موقف کے خلاف نقطہ نظر بیان کیاگیا ہے۔ لیکن ان کے مطابق کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ولی خان کی کتاب پر پابندی لگائی گئی ہو یا پھر انہیں ایسے احتجاج کا سامنا کرنا پڑا ہو جیسا کہ جسونت سنگھ کو کرنا پڑ رہا ہے۔ بقول ان کے پاکستان میں یہ ضرور ہوا ہے کہ ولی خان کے مقابلے میں کئی مصنفین نے اپنا نقظہ نظر ضرور پیش کیا ہے۔

ڈاکٹر صفدر محمود نے کہا کہ حال ہی میں منظر عام پر آنے والی عائشہ جلال کی کتاب ’’ دا سول سپوکس مین‘‘ میں ا نہوں نے تحریک پاکستان کے حوالے سے بہت سی ایسی متنازعہ باتیں کہی ہیں، جن پر پاکستان کے بیشتر لوگوں کو شدید اعتراضات ہیں لیکن اس کتاب کے خلاف عالمانہ انداز میں اخبارات اور جرائد کے اندر لکھا تو گیا ہے لیکن اس پر پابندی نہیں لگائی گئی ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ عائشہ جلال کو اس سال پاکستان کی حکومت نے ستارہ امتیاز دیا ہے۔

BJP Führer Advani im Parlament in Delhi

چند برس قبل ایل کے اڈوانی کو بھی جناح کے حوالے سے تعریفی کلمات لکھنے پر شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا تھا

ڈاکٹر صفدر محمود کے مطابق آج بھارت میں جسونت سنگھ کی جن باتوں پر احتجاج کیا جا رہا ہے، وہ بات سو فیصد مولانا ابو لکلام آزاد نے اپنی کتاب انڈیا ونز فریڈم میں بیس سال پہلے کہی تھی۔ یہ بات قابل ِ ذکر ہے کہ یہ کتاب آج بھی پاکستان میں دستیاب ہے اور علمی حلقوں میں اس سے استفادہ کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ضیا ء الحق دور میں Stanlly Wolpert نامی ایک مصنف نے ’’جناح آف پاکستان‘‘کے نام سے ایک کتاب لکھی تھی، جس میں ایک جگہ پرقائد اعظم کے حوالے سے بعض قابل اعتراض جملے تحریر کئے گئے تھے۔ ان کے مطابق ضیا ء الحق دور میں اس کتاب پر پاکستان میں پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا لیکن یہ مطالبہ نہیں مانا گیا۔

پاکستان میں تقسیم ہند کے حوالے سے لکھی جانے والی متنازعہ کتابوں کے خلاف عوامی سطح پر زیادہ شدید احتجاجی رد عمل دیکھنے میں نہیں آتا رہا ہے۔ پاک بھارت تحریک پر گہری نظر رکھنے والے ممتاز ماہر سیاسیات پروفیسر ڈاکٹر حسن رضوی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں عائشہ جلال کی حالیہ کتاب پر ردِ عمل دیکھنے میں آیا تھا ۔ اس کتاب میں عائشہ جلال کا بنیادی استدلال یہ تھا کہ قائد اعظم پاکستان بنانا نہیں چاہتے تھے بلکہ پاکستان بنانے کا مطالبہ انہوں نے ایک بارگیننگ کی حکمتِ عملی کے تحت کیا تھا۔ اس نقطہ نظر کے خلاف پاکستان میں کئی لوگوں نے اعتراض کیا لیکن عائشہ جلال کی کتاب ’’دا سول سپوکس مین‘‘پاکستان میں موجود ہے اور پاکستان کے صحافتی اور تحقیق حلقے اس کتاب سے استفادہ کر رہے ہیں۔

Buchmesse mit Büchern aus Pakistan

پاکستان میں جسونت سنگھ کی کتاب کا انتظار کیا جا رہا ہے

ڈاکٹر عسکری کے مطابق پاکستان تحریک استقلال کے سربراہ اصغر خان نے جو کتابیں لکھی ہیں ان میں بھی انہوں نے بہت سی غیر روائیتی باتیں کی ہیں۔ مثال کے طور پر ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین لڑی جانے والے جنگوں کو پاکستان نے شروع کیا تھا۔ اس کے علاوہ بہت سی ایسی کتابیں ہیں، جن میں ایسے نقطہ ہائے نظر پیش کئے گئے ہیں جو پاکستان کی قومی پالیسیوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ان کے مطابق ڈاکٹر مبارک علی نے تحریک آزادی کے حوالے سے جو کچھ لکھا ہے وہ بھی بہت منفرد ہے اور اس پر کافی اعتراضات کئے جاتے رہے ہیں لیکن ان کے معاملے میں بھی وہ شدید ردِ عمل دیکھنے میں نہیں آیا جو اس وقت بھارت میں دیکھا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر حسن عسکری کے مطابق اس بات کا اندازہ لگانا ابھی آسان نہیں ہے کہ جسوت سنگھ کے خلاف ہونے والے احتجاج کے بعد سیاست دانوں کی طرف سے اختلافی امور پر کتابیں لکھنے کے عمل کی حوصلہ شکنی ہو گی یا اس سے اس رجحان کو فروغ ملے گا۔ ان کے مطابق سب سے اہم بات یہ ہے کہ تقسیم ہند کے باسٹھ سال بعد پاکستان اور بھارت کو ایک دوسرے کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کر لینا چاہےے اور اپنی تاریخ کے غیر جانبدارانہ تجزیے سے قومی معاملات کو سمجھنے کی کوشش کر نی چاہیے اور اس بات کا بھی جائزہ لینا چاہےے کہ باسٹھ سال پہلے لوگوں نے اس وقت کی صورتحال کو کس انداز میں دیکھا تھا اور آج دنیا ان امور کو کس انداز میں دیکھ رہی ہے۔

ایک پاکستانی مورخ ڈاکٹر مبارک کا کہنا ہے کہ پاکستان میں متنازعہ تحریروں کے خلاف زیادہ احتجاج سامنے نہ آنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ متنازعے امور پر بہت کم لکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں آزادانہ طور پر تحریر لکھنا آج بھی آسان نہیں ہے۔ ان کے مطابق کیونکہ پاکستان کو ایک نظریاتی ملک کہا جاتا ہے لہذا توقع یہ رکھی جاتی ہے کہ تاریخ کو نظریے کے فریم ورک میں لکھا جائے اگر کوئی الگ سے کچھ ہٹ کر لکھنا چاہتا ہے تو اس کو بغاوت سمجھا جاتا ہے، اس مصنف کو ملک دشمن اور بیرونی طاقتوں کا ایجنٹ سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان میں کتابوں کے کاروبار سے تعلق رکھنے والے بیشتر لوگوں کا کہنا ہے کہ جسوت سنگھ کے خیالات سے کوئی اتفاق کرے یا نہ کرے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کتاب کی متنازعہ حیثیت اس کتاب کی فروخت کو چار چاند لگانے کا باعث بنے گی۔ پاکستان کے بک سٹالوں پر اس کتاب کا انتظار جاری ہے اور لوگ اس کتاب کے بارے میں پوچھنے کے لئے مسلسل آ رہے ہیں۔ یہ کتاب اگلے چند دنوں میں فروخت کے لئے مارکیٹ میں آنے والی ہے۔

رپورٹ : تنویر شہزاد، لاہور

ادارت : عاطف توقیر