1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

تقسیم ہند، جب ایک لاکھ عورتیں قتل یا ریپ کی گئیں

تقسیم ہند میں عورتوں کو قتل اور ریپ کیا گیا۔ کئی خواتین کے ساتھ اُن کی مرضی کے خلاف شادی کی گئی۔ ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ عورتوں کو قتل کرنے یا ان کا ریپ کرنے کے لیے اغوا کیا گیا تھا۔

نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹ کے مطابق  سارلا دتا صرف پندرہ برس کی تھی جب اسے ایک پاکستانی فوجی نے اغوا کر لیا تھا۔ سارلا اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ ان کی والدہ کا انتقال ہو چکا تھا اور وہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ میر پور میں رہتی تھیںن جو بعد میں پاکستان میں شامل ہوا۔  سارلا  کے والد اُس علاقے سے لگ بھگ ایک سو کلومیٹر دور جموں کے ریڈیو اسٹیشن میں کام کرتے تھے۔ اسّی سالہ سارلا بتاتی ہیں کہ  یہ خبر ملنے کے بعد کہ مسلمان ان ہندوؤں اور سکھوں کو مار دیں گے جو تقسیم کے بعد بھی پاکستان میں رہیں گے، وہ اس علاقے کو چھوڑ کر بھارت کی طرف روانہ ہوئیں۔ سارلا دتا  نے بتایا،’’ اُس رات جب ہم نے سفر شروع کیا تو ہمیں کھیتوں میں لاوارث بچے روتے ہوئے نظر آئے ۔ آدمیوں نے اپنے بچے چھوڑ دیے تھے، عورتوں نے بھی اپنے بچے چھوڑ دیے، میں نے کبھی انسانیت کو اس حد تک گرتے ہوئے نہیں دیکھا۔‘‘

آج سارلا نئی دہلی کے ایک فلیٹ میں مقیم ہیں۔ تقسیم ہند کی یادوں کو جوڑتے ہوئے اُنہوں نے کہا،’’ ہم پر ایک مسلح گروہ نے حملہ کر دیا۔ حملہم آوروں نے آدمیوں کو مار دیا، بزرگوں کو چھوڑ دیا گیا اور عورتوں کو اغوا کر لیا گیا۔‘‘ سارلا کہتی ہیں کہ انہیں کالو نامے ایک سپاہی نے اغوا کیا تھا۔ سارلا نے اپنی کہانی جاری رکھتے ہوئے کہا،’’ ہم چار دن پیدل چل کر اس شخص کے گاؤں پہنچے، میرا نام انہوں نے انوارا رکھ دیا اور مجھے کالو کے چھوٹے بھائی نے قرآن پڑھنے کو کہا۔‘‘

 قید کے دوران سارلا  آگ جلانے کے لیے لکڑیاں اکٹھی کرتی تھیں اور کنویں سے پانی بھرا کرتی تھیں۔ انہوں  نے کہا کہ قید کے سات ماہ بعد انہیں  آزادی  کی امید تب ہوئی جب  یہ خبر ملی کے پاکستانی اور بھارتی حکومتوں کے مابین معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت اغوا شدہ عورتوں کو ان کے خاندانوں کے پاس بھیج دیا جائے گا۔ سارلا نے ایک لڑکی کو زیور دے کر اسے درخواست کی کہ مقامی پولیس افسر کو بتا دے کہ اسے زبردستی یہاں رکھا گیا ہے۔

سارلا بتاتی ہیں،’’ کالو کی بیوی نے مجھے آٹے کی پیٹی میں چھپا رکھا تھا جب پولیس آئی اور انہوں نے پوچھا کہ یہاں کوئی ’کافر‘ عورت تو نہیں ہے۔ میں نے آٹے کی پیٹی سے باہر ہاتھ نکال دیا اور یوں میں بچ گئی۔‘‘

سارلا کے مطابق اس علاقے سے لگ بھگ 50 عورتوں کو بازیاب کرایا گیا تھا لیکن ان پر مظالم یہاں ختم نہیں ہوئے۔ سارلا کے مطابق بازیابی کے بعد بھی ان عورتوں پر پولیس اہلکاروں نے جنسی تشدد کیا۔ ان عورتوں کو میر پور لے جایا گیا جہاں سرکاری ٹھیکے دار عبدالماجد کو لگ بھگ 500 ایسی عورتوں کی ذمہ داری دی گئی۔ سارلا کے مطابق عبدالماجد نے ان عورتوں کو بہت عزت دی اور ان کا خیال رکھا۔

سارلا نے ماضی کے جھرونکوں میں جھانکتے ہوئے کہا،’’  لگ بھگ آٹھ ماہ بعد ہمیں جموں پہنچایا گیا۔ ان تمام عورتیں آزاد تھیں۔ سب عورتوں نے خوشی منائی اور عبدالمجید زندہ باد کے نعرے لگائے۔ سرحد پر میرے رشتہ دار میرے انتظار میں موجود تھے، یہ ایک معجزہ تھا، میں اپنے گھر والوں کے پاس خیریت سے واپس آگئی تھی۔‘‘

تاریخ دانوں کے مطابق سن 1952 تک مزید پچیس ہزار عورتیں بازیاب کرا لی گئی تھیں۔ بعد میں سارلا کی شادی ایک کلرک سے ہو گئی تھی۔ سارلا اس واقعے کے بعد دو مرتبہ پاکستان جا چکی ہیں۔ اُن کا کہنا ہے،’’ میں میرپور سے بہت محبت کرتی ہوں، کیونکہ یہ میری جائے پیدائش ہے۔ میرے پاکستانی دوست کہتے ہیں کہ تقسیم ہند نفرت کے ایک زلزلے کی مانند تھی جو دونوں طرف کئی زندگیاں نگل گیا، لیکن یہ قسمت تھی جسے قبول کرنا ہوگا۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 03:13

تقسیم ہند پر فلم ’وائسرائے ہاؤس‘ کا پریمیئر برلن میں

DW.COM

Audios and videos on the topic