1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تقسیمِ ہند کے ذمہ دار جناح تھے، بی جی پی موقف پر قائم

تقسیم ِ ہند کا ذمہ دار جناح کو قرار دینے والی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے جسونت سنگھ کی پارٹی سے بے دخلی کے فیصلے سے متعلق کہا ہے کہ بی جے پی اپنے طے شدہ نظریات پر کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

default

بھارت میں بی جے پی جناح کو ایک ولن کے طور پر پیش کرتی ہے

بی جے پی کے ترجمان پرکاش جاوڈیکر نے ڈوئچے ویلے کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ جسونت سنگھ کی بانیء پاکستان محمد علی جناح پر کتاب سے آخر ملک کے عوام کو کیا پیغام جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے اصولوں کے مطابق یہ نا ممکن ہے کہ کوئی بھی پارٹی رہنما اپنی مرضی سے پارٹی کے نظریات کے خلاف کوئی بھی با ت کہنے لگے۔

جاوڈیکر نے جسونت سنگھ کی پارٹی سے برطرفی کے فیصلے کا بھر پور دفاع کرتے ہوئے کہا: ’’اس کا تعلق پارٹی ڈسپلن کو توڑنے سے ہے۔" جاوڈیکر نے مزید کہا کہ سردار ولَبھ بھائی پٹیل نے ملک کو متحد کرنے کے لئے اپنی پوری زندگی لگا دی لیکن جسونت سنگھ کی کتاب میں انہیں بھارت کی تقسیم کا ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے۔ ’’جسونت سنگھ کے الزامات کو پارٹی قطعی برداشت نہیں کرسکتی، کیونکہ یہ بات پارٹی کے بنیادی نظریات کے خلاف ہے۔‘‘

Jaswant Singh

جسونت سنگھ نے جناح کو عظیم بھارتی قوم پرست قرار دیا

بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما، سابق وزیر خارجہ اور سابق وزیر خزانہ جسونت سنگھ کو بانی ء پاکستان محمد علی جناح کو ایک سیکولر رہنما اور بھارت کی تقسیم کے لئے جناح کے ساتھ ساتھ جواہر لال نہرو اورسردار ولَبھ بھائی پٹیل کو بھی ذمہ دار قراردینے کا خمیازہ بھگتنا پڑ گیا۔ پارٹی نے ایک اعلٰی قیادت کی میٹنگ کے بعد انہیں بی جے پی کی بنیادی رکنیت سے برطرف کردیا۔

اس حوالے سے شمالی بھارت کے سیاحتی اور تاریخی مقام شملہ میں آج بدھ کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی کے چوٹی کے رہنماوں کی تین روزہ ’چنتن بیٹھک ‘ ہوئی۔ اگرچہ بی جے پی کی اعلٰی قیادت کی اس میٹنگ میں حالیہ پارلیمانی انتخابات میں پارٹی کی شکست اور اندرونی گروہ بندی جیسے امور پر تبادلہ ء خیال کے لئے بلائی گئی تھی لیکن میٹنگ شروع ہوتے ہی سب سے پہلا فیصلہ جسونت سنگھ کی بے دخلی کا سامنے آیا۔

Wahlen in Indien Wahlkampf BJP

بی جے پی ہندو قوم پرست نظریات کا پرچار کرتی ہے

جسونت سنگھ پارٹی کے اس فیصلے سے کافی غمزدہ ‘ مایوس اور دل برداشتہ نظر آئے۔ انہوں نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں پارٹی سے برطرفی کی اطلاع فون پر دینے کے بجائے صدر راج ناتھ سنگھ یا لال کرشن اڈوانی خود دیتے تو زیادہ اچھا ہوتا۔

جسونت سنگھ نے کہا کہ جب کوئی ملک غور و فکر ‘ سمجھ بوجھ اور تحریر و تقریرکو برداشت کرنا چھوڑ دیتا ہے تو یہ اس کے مستقبل کے لئے بہت برا ہوتا ہے اور جب کوئی سیاسی جماعت ان چیزوں سے گریز کرنے لگتی ہے تو یہ اس کے لئے سیاہ دن ہوتا ہے۔

”جب کسی مسئلے پر یا کسی تحریری دستاویز پر غور و فکر کرنے‘ بحث و مباحثہ کرنے‘ تبادلہء خیال کرنے اور دوسرے کے نظریات کو سننے کا حوصلہ نہیں رہے تو یہ ملک کے لئے بہت افسوس ناک دن ہوتا ہے ‘ ایک سیاہ دن ہوتا ہے۔‘‘

جسونت سنگھ کی برطرفی کا فیصلہ غیرمتوقع نہیں تھا۔ کل پیر کے روز جب ان کی محمد علی جناح سے متعلق کتاب Jinnah-India-Partition-Independence منظر عام پر آئی تھی، تب سے بی جے پی اور اس کی حلیف سیاسی جماعت آر ایس ایس نے آنکھیں ٹیڑھی کرلی تھیں۔

Lal Krishna Advani bei einer Wahlkampfveranstaltung in Orissa

جناح کی تعریف کرنے پر چار سال پہلے اڈوانی کو بھی عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تھا

پارٹی کے بعض لیڈروں نے تو جسونت سنگھ کو دماغی علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرانے کا مشورہ بھی دیا تھا۔ تیس برس تک اپنے خون پسینے سے پارٹی کو سینچنے والے جسونت سنگھ کو بی جے پی نے جس طرح دودھ سے مکھی کی طرح نکال پھینکا ہے، اس کا اندازہ خود جسونت سنگھ کو بھی نہیں تھا۔

1967ء میں فوج کی ملازمت ترک کرکے سیاست کے میدان میں قدم رکھنے والے جسونت سنگھ نے بی جے پی کو بھارتی سیاست میں بلندیوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ سنگھ پارلیمان کی ایوان بالا یا راجیہ سبھا میں بی جے پی کے لیڈر بھی رہے لیکن انڈین ایرلائنز کے ایک اغوا شدہ طیارے کی رہائی کے بدلے جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر سمیت تین عسکریت پسندوں کو اپنے ساتھ قندھار لے جاکر انہیں آزاد کرنے کے لئے ان کی بہت نکتہ چینی بھی کی گئی۔

چار جون 2005 کوبی جے پی کے اس وقت کے صدر لال کرشن اڈوانی نے کراچی میں اپنے دورے کے دوران محمد علی جناح کو ایک عظیم اور سیکولر لیڈر قرار دیا تھا۔ اڈوانی کے اس بیان پر بھارت میں اور خود ان کی پارٹی کے اندر کافی ہنگامہ ہوا تھا، جس کے نتیجے میں اڈوانی کو بعدمیں اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔

جب پرکاش جاوڈیکر سے پوچھا گیا کہ آخر اڈوانی اور جسونت سنگھ کے معاملے میں پارٹی نے دوہرا معیار کیوں اختیار کیا تو انہوں نے کہا: ”دونوں معاملات میں فرق ہے۔ اڈوانی جی نے اپنے بیان میں جناح کی ایک تقریرکا حوالہ دیا تھا جس میں بانی ء پاکستان نے یہ کہا تھا کہ وہ کس طرح کا پاکستان چاہتے ہیں۔

Pakistan Unabhängigkeitstag Staatsgründung 1947

پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کا حلف لیتے ہوئے محمد علی جناح کی ایک یادگار تصویر

بی جے پی ترجمان نے کہا کہ اڈوانی جی نے یہ یاد دلانے اور پاکستان کو آئینہ دکھانے کی کوشش کی تھی کہ آج پاکستان کہاں پہنچ گیا ہے۔

جسونت سنگھ نے بھی دبے الفاظ میں کہا کہ ان کے اور اڈوانی کے معاملے میں پارٹی نے دوہرا معیار اپنایا ۔ سنگھ نے کہا کہ پارٹی نے حالانکہ انہیں نکال دیا ہے لیکن ان کا سیاسی کیریر ابھی باقی ہے۔ انہوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ وہ پارٹی سے اس فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کبھی نہیں کریں گے۔

حکمراں کانگریس پارٹی نے کہا کہ جسونت سنگھ نے اپنی کتاب میں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا ہے اور مجاہدین آزادی کوغلط رنگ میں پیش کرنے کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔

رپورٹ: افتخار گیلانی، نئی دہلی

ادارت: گوہر نذیر گیلانی

DW.COM