1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تقریباﹰ بیس لاکھ مسلمان حج کے لیے مکہ پہنچ گئے

دنیا بھر سے تقریباﹰ بیس لاکھ مسلمان حج کے لیے مکہ پہنچ گئے ہیں، جہاں کسی بڑے حادثے سے بچنے کے لیے سکیورٹی کے نئے انتظامات متعارف کرائے گئے ہیں۔ دریں اثناء آج ہزاروں ایرانیوں نے سعودی حکومت کے خلاف احتجاج بھی کیا ہے۔

گزشتہ برس حج کے دوران پیش آنے والے ایک حادثے کے دوران تقریباﹰ دو ہزار تین سو زائرین ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ واقعہ بھی ایران اور سعودی عرب کے مابین کشیدگی میں اضافے کا باعث بنا تھا اور گزشتہ تین عشروں کے دوران ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ایرانی زائرین حج کے لیے سعودی عرب نہیں گئے۔

چھ روزہ حج کے مرکزی فرائض کا ادائیگی کا آغاز ہفتے کے روز ہوگا لیکن زائرین کی آمد کے بعد سے مکہ میں مقدس کعبہ کے طواف کرنے کا سلسلہ دن رات جاری ہے۔ حج کا شمار دنیا کے سب سے بڑے مذہبی اجتماعات میں ہوتا ہے۔

حج اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک ہے اور ہر اس مسلمان پر فرض ہے، جو اس کی استطاعت رکھتا ہے۔ اس دوران دنیا کے تمام امیر اور غریب مسلمان ایک جیسا لباس پہنتے ہیں۔

برطانیہ سے حج کے لیے آئے ہوئے عادل عبدالرحمان کا سعودی حکومت کی طرف سے کیے گئے سکیورٹی کے انتظامات کے بارے میں کہنا تھا، ’’مجھے کسی قسم کا خوف یا ڈر نہیں ہے۔‘‘ نائیجریا کے لاوان ناصر کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ گزشتہ برس حج کے دوران اس کا پینتالیس سالہ کزن ہلاک ہو گیا تھا لیکن اس کے باوجود اس کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش حج کرنا ہے، ’’موت کا ایک وقت مقرر ہے اور جب وہ آئے گی تو اس کے پنجے سے انسان کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں بچا سکتی۔‘‘

دوسری جانب سعودی حکومت کی جانب سے بھی رواں برس نئے انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ عازمین حج کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔ طواف کے لیے وقف جگہ میں بھی توسیع کر دی گئی ہے۔ پہلے ایک ہی وقت میں تقریبا انیس ہزار افراد طواف کر سکتے تھے لیکن اب یہ تعداد تیس ہزار تک کر دی گئی ہے۔ حج کے لیے آنے والے ہر شخص کے کو شناختی بینڈ بھی پہنایا گیا ہے تاکہ کسی بھی شخص کی شناخت کی جا سکے۔ گزشتہ برس ہلاکتوں کے بعد درجنوں افراد کی شناخت ہی نہیں ہو سکی تھی۔ اس کے علاوہ ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے نئے راستے بنائے گئے ہیں اور سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔

تاہم اس مرتبہ جو شہری حج میں شریک نہیں ہوں گے وہ ایرانی ہیں۔ تہران اور ریاض حکومت کے مابین لاجسٹک اور سکیورٹی کے مسائل کی وجہ سے ایرانیوں کو ویزے ہی فراہم نہیں کیے گئے۔ تہران میں سعودی سفارت خانہ اس وقت بند کر دیا گیا تھا، جب ایک شیعہ عالم کی پھانسی کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین نے سعودی سفارت خانے پر حملہ کر دیا تھا۔

دریں اثناء آج ہزاروں ایرانی شہریوں نے ملک میں سعودی عرب کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی ہے۔ مظاہرین ’آل سعود مردہ باد‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق جمعے کی نماز کے بعد ایران کے مختلف شہروں میں سعودی حکومت کے خلاف مظاہرے کیے گئے ہیں۔