1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تفتیش کے لئے قصاب کی حوالگی، پاکستانی مطالبہ

پاکستان نے بھارت سے کہا ہے کہ ممبئی میں سال 2008ء میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے واحد زندہ ملزم اجمل قصاب کوحوالے کیا جائے تاکہ ان حملوں میں ملوث ہونے کے سلسلے میں پاکستان میں جاری تفتیشی عمل کو آگے بڑھایا جاسکے۔

default

پاکستانی وزارت خاجہ کے ترجمان عبدالباسط کے مطابق پاکستان نے آج اتوار کے روز ممبئی حملوں کے حوالے سے اب تک ہونے والی تفتیش پر مشتمل چھ ڈوسیئرز بھارت کے حوالے کئے ہیں۔ عبدالباسط کا مزید کہنا ہے کہ اس تفتیشی عمل کو مزید آگے بڑھانے کے لئے بھارتی حکومت سے اجمل قصاب کے علاوہ فہیم انصاری نامی ایک بھارتی شہری کی حوالگی کی درخواست بھی کی گئی ہے۔ فہیم انصاری پر حملہ آوروں کو مدد فراہم کرنے کا الزام ہے۔

پاکستانی حکام 26 نومبر 2008ء کو ہونے والے ممبئی دہشت گردانہ حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں سات افراد کے خلاف تفتیش کررہے ہیں، جن میں مبینہ طور پر ان حملوں کے ماسٹرمائنڈ ذکی الرحمان لکھوی اور لشکر طیبہ کے ایک رہنما ضرار شاہ شامل ہیں۔ بھارت کی جانب سے ممبئی حملوں کی ذمہ داری لشکر طیبہ پر عائد کی جاتی ہے۔ 26 سے 29 نومبر کے دوران ان حملوں میں 166 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اجمل قصاب ان حملوں کا واحد زندہ ملزم ہے جبکہ باقی کے نو حملہ آور سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں ہلاک کردیے گئے تھے۔ 31 مارچ کو ممبئی کی ایک عدالت نے قصاب کو قتل، بھارت کے خلاف جنگ سمیت دیگر جرائم کا مرتکب قرار دیا تھا، جبکہ ان جرائم پر سزا تین مئی کو سنائے جانے کی توقع ہے۔

Pakistan Innenminister Rehman Malik

پاکستانی وزیرداخلہ رحمان ملک

پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان سے جب سوال کیا گیا کہ کیا بھارت اجمل قصاب کو پاکستان کے سپرد کردے گا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ حوالگی نہیں ہے بلکہ ایک قانونی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان میں قائم مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت نےحتمی فیصلے پر پہنچنے سے قبل اجمل قصاب کی بطور گواہ پیشی کا حکم دیا ہے۔

پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک بھی کہہ چکے ہیں کہ راولپنڈی کی ایک عدالت میں پیش کرنے کے لئے اجمل قصاب کی ضرورت ہے۔ ملک کے مطابق بھارت سے درخواست کی جائے گی کہ وہ اپنے اُن تفتیشی افسران کو راولپنڈی بھیجے، جنہوں نے اجمل قصاب کا اقبالی بیان ریکارڈ کیا تھا۔ پاکستانی وزیر داخلہ نے امید ظاہر کی بھارت سچائی تک پہنچنے کے لئے اس درخواست پر ضرور غور کرے گا۔

بھارتی حکومت نے اسلام آباد پر ممبئی حملوں کے حوالے سے اپنی تفتیش تیز کرنے کے کے لئے دباؤ ڈالا ہوا ہے۔ ممبئی حملوں کا نشانہ بھارت کے اہم ہوٹلوں کے علاوہ ایک ریلوے اسٹیشن اور یہودیوں کا ایک سینٹر تھا۔

رپورٹ : افسر اعوان

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM