1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’تفتیشی عمل متعصبانہ اور جانبدارانہ ہے‘

پاکستان تحریک انصاف نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کو آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کے تحت نا اہل قرار دیا جائے۔ دوسری جانب وزیراعظم کی طرف سے تمام تفتیشی عمل کو متعصبانہ اور جانبدارانہ قرار دیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی نے یہ درخواست اپنے وکیل نعیم بخاری کے ذریعے آج سپریم کورٹ میں پاناما کیس کے حوالے سے جے آئی ٹی کی رپورٹ پر ہونے والی سماعت کے دروان دی ہے۔ سماعت کل تک کے لئے ملتوی کر دی گئی ہے۔
نعیم بخاری نے عدالت سے یہ بھی درخواست کی کہ وزیر اعظم نواز شریف کو جرح کے لئے عدالت میں بلایا جائے اور شریف فیملی کے خلاف مقدمات نیب میں بھیجے جائیں۔ تجزیہ کار اس مقدمے کو پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم واقعہ قرار دے رہے ہیں۔ مقدمے کی کارروائی سننے کے لئے کئی سیاسی رہنما آج خصوصی طور پر سپریم کورٹ آئے اور اس موقع پر میڈیا سے بات چیت بھی کی۔
اس موقع پر دو ہزار سے زیادہ سکیورٹی اہلکار سپریم کورٹ کو جانے والے راستوں پر تعینات تھے۔ پولیس اہلکاروں کے ہاتھ میں لاٹھیاں، ہیلمٹ اور بلٹ پروف جیکٹیں بھی تھیں تاکہ کسی بھی نا خوشگوار واقعے سے بر وقت نمٹا جا سکے۔
سماعت کے موقع پر نعیم بخاری نے کہا کہ قطری کا خط بوگس تھا اور شریف گھرانے کی برطانوی کمپنیاں نقصان میں چل رہی تھیں۔ مریم کی طرف سے جمع کرائے جانے والے کاغذات میں ایسا فونٹ تھا، جو مارکیٹ میں موجود ہی نہیں تھا۔

اس موقع پر پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا،’’نعیم بخاری نے تین نکات عدالت کے سامنے رکھے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ وزیرِ اعظم کو جرح کے لئے بلایا جائے، نوازشریف کو آئین کی آرٹیکلز 62 اور 63 کے تحت نا اہل قرار دیا جائے اور شریف فیملی کے خلاف مقدمات نیب کو بھجوائے جائیں۔‘‘
فواد چوہدری نے کہا کہ جس طرح کی غلط بیانی مریم نواز شریف نے کی ہے، اس کی وجہ سے انہیں جیل جانا پڑے گا اور میاں صاحب کو بھی نااہلی کے علاوہ سزا کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔

جے آئی ٹی، پاکستان کے مسائل اور جمہوری بادشاہتوں کی روایت
عدالت میں شیخ رشید نے کہا،’’ ہر مقدمے کا ایک چہرہ ہوتا ہے اور اس کا چہرہ نواز شریف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک اہم مقدمہ ہے۔ اس میں ملزم وزیرِ اعظم ہیں ، کوئی حمید ڈینٹر نہیں۔‘‘
عدالت میں جماعتِ اسلامی کے وکیل نے بھی اپنے دلائل پیش کئے۔
سماعت کے بعد وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’جے آئی ٹی کا فیصلہ کوئی سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں ہے۔ جب جے آئی ٹی کی جلد دس منظرِعام پر آئے گی تو سب کچھ عیاں ہو جائے گا اور اس تفتیش کے مقاصد بھی سامنے آجائیں گے۔ اس جلد کو عدالت سے بھی چھپایا جا رہا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا غیر تصدیق شدہ کاغذات کا سہارا لے کر ایک منتخب وزیرِ اعظم کو ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن عدالت آئین اور قانون کی روشنی میں فیصلہ کرے گی۔ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی طرف سے آج سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی پر اعتراضات بھی جمع کرائے گئے۔ بارہ صفحات پر مشتمل اس جواب میں وزیرِ اعظم کی طرف سے یہ اعتراض کیا گیا ہے تمام تفتیشی عمل متعصبانہ اور جانبدارانہ تھا اور جے آئی ٹی کے وزیرِ اعظم سے متعلق تاثرات اس کے تعصب کی عکاسی کرتے ہیں۔
اعتراضات میں کہا گیا ہے کہ جے آئی ٹی نے تفتیشی ٹیم کے سربراہ کے ایک رشتہ دار سے برطانیہ میں مدد لی، جو خود بھی پی ٹی آئی سے وابستہ ہیں۔ اعتراضات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جے آئی ٹی نے اپنی حدود سے تجاوز کیا اور جس طریقے سے دستاویزات جمع کیں، وہ نیب آرڈیننس کی سیکشن اکیس کے خلاف ہیں۔ وزیرِ اعظم کی طرف سے جمع کرائے گئے جواب میں یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ جے آئی ٹی کے تحقیقات کو کالعدم قرار دیا جائے۔

DW.COM