1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

تعلیم کے شعبے میں بلوچستان اور فاٹا سب سے پیچھے

ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق بلوچستان اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) ملک کے دیگرعلاقوں کی نسبت تعلیم کے شعبے میں سب سے پیچھے ہیں۔

تعلیم کے فروغ اور اس حوالے سے آگاہی پیدا کرنے والے غیر سرکاری ادارے الف اعلان کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد مسلسل چوتھے سال بھی تمام علاقوں اور صوبوں میں تعلیم کے لحاظ سے سب سے بہتر ہے۔ اسلام آباد کے اسکولوں میں داخلے کی شرح اور سیکھنے کے معیار کے تنائج سب سے بہتر ہیں تاہم اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی دستیابی کے حوالے سے اسلام آباد کا دوسرا نمبر ہے۔

اس رپورٹ میں ملک کے ہر ضلع کے تازہ ترین تعلیمی اعدادو شمار کا جائزہ لیتے ہوئے تعلیمی صورتحال کی منظر کشی کی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے پورے ملک کے 151 اضلاع اور ایجنسیوں کے عوامی طور پر دستیاب اعدادو شمار کے ذریعے ہر علاقے کے اسکولوں کا اسکور نکالا گیا ہے۔

اس اسکور کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر دوسرے اور پنجاب تیسرے درجے پر رہا۔ پاکستانی کشمیر کا سب سے پہلے درجوں پر آنے والا ضلع کوٹلی ہے، جس کے بعد ضلع میر پور ہے۔ تعلیمی اسکور میں ہر سال بہتر کارکردگی دکھانے کے باوجود پاکستان کے زیر انتظام کشمیر انفراسٹرکچر اسکور میں پیچھے نظر آتا ہے۔

Pakistan Zustand staatlicher Bildungseinrichtungen Containerschulen

اس رپورٹ کے مطابق اس سال سیکھنے کے معیار میں سب سے زیادہ کمی سندھ میں دیکھنے میں آئی ہے

رپورٹ کے مطابق اس سال کی درجہ بندی میں بھی پنجاب کے اضلاع بدستور پہلے درجوں پر موجود ہیں۔ پنجاب میں راجن پور وہ واضد ضلع ہے جو پہلے 100 درجوں میں شامل نہیں ہے۔ ڈیرہ غازی خان، اور مظفر گڑھ میں بھی تعلیمی نظام مناسب نہیں ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسکول انفراسٹرکچر میں مسلسل خراب کارکردگی کے باوجود گلگت بلتستان کی کارکردگی تعلیمی درجہ بندی میں ہمیشہ کی طرح بہتر رہی ہے۔ غزر، گلگت بلتستان کا سب سے اوپر آنے والا ضلع ہے۔

تعلیمی معیار کے لحاظ سے خیبر پختونخوا اور سندھ بالترتیب پانچویں اور چھٹے درجے پر رہے۔ مالا کنڈ صوبے کا سب سے بہتر کارکردگی دکھانے والا ضلع جبکہ کوہستان سب سے خراب کارکردگی دکھانے والا ضلع ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق اس سال سیکھنے کے معیار میں سب سے زیادہ کمی سندھ میں دیکھنے میں آئی ہے۔ اس مرتبہ پہلے 50 درجوں میں شامل کراچی سندھ سے تعلق رکھنے والا واحد ضلع ہے۔ ٹھٹھہ سندھ میں تعلیمی معیار کے لحاظ سے سب سے کمزور صوبہ ہے۔

درجہ بندی کے آخری درجوں پر وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) اور بلوچستان رہے جنہوں نے ساتواں اور آٹھواں درجہ حاصل کیا۔ گوادر اور کوئٹہ بلوچستان کے سب سے اوپر والے درجوں میں آنے والے اضلاع ہیں۔ ڈیرہ بگٹی کی کارکردگی صوبے کے باقی تمام اضلاع سے خراب رہی۔

DW.COM