1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

تعلیمی اداروں میں ممنوعہ ادویات کا استعمال

طلبا اپنے امتحانات سے قبل نفسیاتی دباؤ اور فکر و پریشانی کم کرنے کے لئے ریٹالن یا امفیٹامینن جیسی ممنوعہ ادویات کا استعمال کر رہے ہیں۔ ماہرین اسے ذہنی ڈوپنگ کا نام دیتے ہیں۔

default

کیا یونیورسٹی کی سطح پر ڈوپنگ یا ممنوعہ ادویات کے استعمال کے بارے میں امتحانات سے قبل طبی معائنہ ہونا چاہئے؟ بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معائنہ ضروری ہے کیونکہ نوجوانوں میں اپنی کار کردگی کو بہتربنانے کے لئے نفسیاتی ادویات کے استعمال کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔

کافی، الکوہل، یا انرجی ڈرنکس یعنی طاقت سے بھرپور مشروبات کا استعمال اب کافی نہیں رہا ہے۔ طلبا اپنے امتحانات سے قبل نفسیاتی دباؤ اور فکر و پریشانی کو کم کرنے کے لئے ریٹالن یا امفیٹامینن جیسی ممنوعہ ادویات کا استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم دماغی صلاحیتوں کو وقتی طور سے بڑھانے کے لئے ان ادویات کا استعمال کس حد تک مضرثابت ہوسکتا ہے اس بارے میں ابھی مکمل معلومات نہیں پائی جاتی ہیں۔

BdT Nobelpreis Chemie Fluoreszierende Gehirnzellen

جرمن یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم بہت سے طلبا نفسیاتی دباؤ کا مقابلہ نہیں کرپاتے ہیں۔ نفسیاتی دباؤ کم کرنے اور دماغی صلاحیت بڑھانے والی دواء ریٹالن کے استعمال کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ امریکہ میں اس دواء کا استعمال پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔ تاہم اس دوا کا استعمال کرنے والے طالبعلموں کی اصل تعداد ابھی معلوم نہیں ہے۔ لیکن یہ امر واضح ہے کہ اس دوا کے نقصانات کافی زیادہ ہیں۔ برلن کے معروف طبی تحقیقی مرکز شاریٹی میں اس قسم کی ادویات پر کافی رسرچ ہوئی ہے اورمحققین کو کافی حد تک معلوم ہے کہ ان کے اثرات کتنے مضر ہو سکتے ہیں۔

Karikaturen des iranischen Karikaturisten Seyyed Mahmud Javadi zum Thema Gehirn

ماہرین کے مطابق مجموعی طور پران ادویات سے دماغ کے پورے دھیان اور توجہ کو تقویت ملتی ہے کیونکہ یہ سستی اور تھکن کے احساس کو دور کرتی ہیں۔ تاہم ان سے زہنی کارکردگی میں اضافہ یا بہتری نہیں آتی۔ لیکن جب انسان کچھ دیر کے لئے مصنوعی طورپر چستی لانے کی کوشش کرتا ہے تو یہ کیفیت زیادہ دیر برقرار نہیں رہتی بلکہ بہت تیزی سے انسان کے اعصاب سست ہو جاتے ہیں۔

2007 میں ایک جرمن ہیلتھ انشورنس کمپنی کی طرف سے کروائے جانے والے سروے سے یہ پتہ چلا کہ اس میں حصہ لینے والے طلبا کا ایک تہائی، دماغ کے دھیان اور توجہ میں کمی جیسے نفسیاتی مسائل سے دوچار ہیں۔ ان طلبا کو ڈاکٹروں نے جو دوائیں دی ہیں وہ زیادہ ترنفسیاتی امراض سے متعلق ہیں۔

جرمنی میں ماہرین نوجوانوں کے اندرڈوپنگ یا ممنوعہ ادویات کے استعمال کو تشویش ناک سمجھتے ہیں۔ اس لئے انکی طرف سے یونیورسٹی کے امتحانات سے پہلے طبی معانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ ٹاہم برلن کے میڈیکل ریسرچ سینٹر شیریٹی سے منسلک ایزابیلا ہوئزراسے غیر حقیقی یا خیالی سمجھتی ہیں۔ ان کے خیال میں طلبا ممنوعہ ادویات لینے کے بعد امتحان دینے نہیں جاتے ہیں بلکہ امتحان کی تیاری کے وقت اس قسم کی دوائیں لیتے ہیں۔ آیا وہ امتحان سے پہلے اس بارے میں اپنا طبی معائنہ کروانا چاہیں گے یا نہیں یہ کہنا مشکل ہے اور ویسے بھی عملی طور پر ایسا کرنا شائد ہمیشہ ممکن بھی نہ ہو۔ ان کے خیال میں بہتر طریقہ یہ ہونا چاہئے کہ نوجوانوں کی تربیت کی جائے اور انکے اندر یہ شعور بیدار کیا جائے کے ممنعہ ادوایات کا استعمال انکے لئے مضر ہے اور انہیں یہ نہیں کرنا چاہئے۔