تعلقات کی بحالی، اسرائیل اور ترکی کے مابین مذاکرات ’کامیاب‘ | حالات حاضرہ | DW | 18.12.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تعلقات کی بحالی، اسرائیل اور ترکی کے مابین مذاکرات ’کامیاب‘

دو طرفہ تعلقات کی بحالی کے لیے ترکی اور اسرائیل کے مابین جاری خفیہ مذاکرات ’کامیاب‘ ہو گئے ہیں۔ ترک حکام کے مطابق اس سلسلے میں جلد ہی ایک معاہدہ طے پانے والا ہے جبکہ اسرائیل حکام کے مطابق ’مفاہمت‘ ہو چکی ہے۔

ترک حکام کے مطابق پانچ سالہ تعطل کے بعد وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے سلسلے میں ایک معاہدے کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ بند دروازوں کے پیچھے جاری مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ قبل ازیں اسرائیلی حکام نے کہا تھا کہ ترکی کے ساتھ سوئٹزرلینڈ میں جاری خفیہ مذاکرات میں وہ ایک ’مفاہمت‘ تک پہنچ گئے ہیں۔

ترکی کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ ترکی کے تمام بڑے مطالبے منظور کر لیے گئے ہیں، جن میں غزہ پٹی کا محاصرہ ختم کرنے ایسی شرط بھی شامل ہے۔ جرمن نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیل ترک امدادی کارکنوں کی ہلاکت پر معاوضہ ادا کرنے پر بھی راضی ہو گیا ہے۔ 2010ء میں یہ واقعہ اس وقت رونما ہوا تھا ، جب غزہ کے لیے امدادی سامان لے کر جانے والے ایک بحری جہاز کو اسرائیلی کمانڈوز نے حملے کا نشانہ بنایا تھا۔ اس واقعے میں دس ترک شہری ہلاک ہو گئے تھے اور اس کے بعد ترکی نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کر دیے تھے۔

اس اہلکار کا مزید کہنا تھا، ’’ہم تعلقات کی بحال کے لیے حتمی معاہدے کے بہت قریب ہیں، ٹھوس اور مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔‘‘ دریں اثناء اسرائیلی میڈیا کے مطابق ترکی نے اسرائیل کی یہ شرط قبول کر لی ہے کہ وہ حماس کے سینیئر لیڈر صالح اروری کو اپنی حدود میں داخل ہونے اور وہاں سے سرگرم عمل ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔ دوسری جانب ترک عہدیدار کے مطابق انہوں نے کسی بھی نام پر مذاکرات نہیں کیے ہیں اور اگر اسرائیل کی یہ ڈیمانڈ ہے تو اس پر بھی بات چیت کی جا سکتی ہے۔

اسرائیلی گیس کی درآمد

میڈیا اطلاعات کے مطابق تعلقات کی بحالی کے معاہدے کے فوری بعد اسرائیل سے قدرتی گیس کی درآمد کے سلسلے میں بھی تیزی سے پیش رفت ہو سکتی ہے۔ ترکی کئی ارب ڈالر کے اس معاہدے کے تحت اسرائیل سے قدرتی گیس خریدنا چاہتا ہے۔ ترکی اپنی توانائی کی ضروریات درآمدات کے ذریعے پوری کرتا ہے اور روس کے ساتھ بگڑتے ہوئے تعلقات کی وجہ سے وہ توانائی کے نئے راستے تلاش کرنے کی کوششیں تیز کر چکا ہے۔ اسرائیل کے ایک عہدیدار کے مطابق سوئٹرز لینڈ میں ہونے والے ’معاہدے‘ کے سلسلے میں وہاں اعلیٰ ترک عہدیدار موجود تھے۔

ایک دوسرے ترک اہلکار کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا کہ تعلقات میں تعطل کے باوجود بحیرہٴ روم کے راستے اسرائیلی قدرتی گیس درآمد کرنے کا منصوبہ بند نہیں کیا گیا تھا اور اس پر کام جاری تھا۔ ایک اسرائیلی وزیر کے مطابق یہ معاہدہ ایک ہاتھ لو اور ایک ہاتھ دو کی بنیاد پر ہو رہا ہے۔ اس ممکنہ معاہدے کے تحت ترکی کو اپنی سرحدوں کے اندر حماس کی سرگرمیوں کو بڑی حد تک محدود کرنا پڑ سکتا ہے۔