1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تعلقات میں تناؤ، باہمی تجارت بھی متاثر

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سفارتی تعلقات میں باہمی اعتماد کی کمی کے اثرات اب دو طرفہ تجارتی تعلقات میں بھی نمایاں ہوتے جارہے ہیں۔ اس کا اظہار پاکستان اور افغانستان کے مشترکہ اقتصادی فورم کے دوران بھی دیکھا گیا۔

پاکستان اور افغانستان کے مشترکہ اقتصادی فورم کا پیر 23 نومبر کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والا اجلاس اس فورم کا دسواں اجلاس تھا۔ اس موقع پر پاکستان نے افغانستان کو واہگہ کے راستے بھارت تک براہ راست رسائی دینے سے انکار کر دیا ہے۔

پاکستانی وزارت خزانہ کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اس اجلاس کے دوران افغان وفد نے اپنے اس مطالبے کا اعادہ کیا جس میں افغانستان واہگہ بارڈر کے زمینی راستے سے بھارت کے ساتھ براہ راست دو طرفہ تجارت کے لیے راستہ چاہتا ہے۔ تاہم پاکستانی حکام نے سلامتی کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے افغانستان کو واہگہ کے راستے بھارت تک براہ راست رسائی دینے سے انکار کر دیا۔ اس کے جواب میں افغانستان نے بھی پاکستان کو زمینی راستے سے تاجکستان کی سرحد تک رسائی دینے سے معذرت کر لی۔

مشترکہ اقتصادی کمیشن کے اجلاس کے بعد دونوں ممالک کے وزرائےخزانہ کی مشترکہ پریس کانفرنس میں بھی اہم تجارتی امور پر متضاد نقطہء نظر کی جھلک دکھائی دی۔ افغان وزیر خزانہ عقیل احمد حکیمی کا کہنا تھا، ’’ہم جنوبی ایشیاء تک رسائی چاہتے ہیں اور پاکستان وسط ایشیاء تک رسائی چاہتا ہے۔ ہم نے اس پر تبادلہ خیال کیا ہے کہ اس مشترکہ وژن کے حصول کے لیے مشکلات کو کس طرح ختم کیا جائے۔‘‘ حکیمی کا مزید کہنا تھا کہ ایک دوسرے کو دیگر پڑوسیوں تک رسائی دینا ایک ’’اہم معاملہ‘‘ ہے۔

دوسری جانب پاکستانی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ سلامتی کے امور کی وجہ سے کچھ معاملات پر عملدر آمد سست روی کا شکار ہے ۔ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا، ’’سیکیورٹی کے امور ہمارے ایجنڈے میں ترجیح پر رہیں گے۔‘‘

افغانستان نے بھی پاکستان کو زمینی راستے سے تاجکستان کی سرحد تک رسائی دینے سے معذرت کر لی ہے

افغانستان نے بھی پاکستان کو زمینی راستے سے تاجکستان کی سرحد تک رسائی دینے سے معذرت کر لی ہے

پاک افغان تجارتی تعلقات پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دراصل اس معاملے میں بھی سیاست غالب دکھائی دیتی ہے۔ پاک افغان مشترکہ چیمبر آف کامرس کے سابق صدر زاہد شنواری کا کہنا ہے کہ بظاہر افغانستان کو واہگہ کے راستے بھارت کے ساتھ تجارت کی اجازت دینے میں کوئی قباحت نہیں لیکن اس معاملے کے کچھ دیگر پہلو بھی ہیں: ’’جب تک افغانستان، پاکستان اور بھارت کے درمیان سہ فریقی تجارت کا کوئی معاہدہ نہیں ہو جاتا پاکستان کس طرح افغانستا ن کے تجارتی ٹرکوں کو کابل سے نئی دہلی جانے دے، کیونکہ بھارت بھی تو پاکستان کو زمینی راستے سے سری لنکا یا نیپال تک رسائی نہیں دے رہا۔ تو یہ صورتحال ابھی تک دو طرفہ تجارت میں دی گئی رعائیتوں تک ہی محدود ہے۔‘‘ زاہد شنواری کے مطابق پاک افغان راہداری تجارت کے معاہدے کے تحت افغان ٹرک بھارت کے لیے تجارتی سامان واہگہ بارڈر تک لے جارہے ہیں لیکن اس سے آ گے نہیں جاسکتے اور نا ہی واپسی پر سامان لے جاسکتے ہیں۔

پاک افغان امور کے ماہر طاہر خان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں کو دونوں ممالک کے عوام کی بہتری کے لیے تجارتی تعلقات کو سیاست سے الگ کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا، ’’اگر پاکستان مقبوضہ (بھارتی زیرانتظام) کشمیر کے ساتھ آمد ورفت اور تجارت کے لیے بھارت کے ساتھ معاہدہ کر سکتا ہے تو پھر افغانستان کے سامان کو بھی واہگہ کے راستے براہ راست بھارت لے جانے کی اجازت دینے میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ خان کے مطابق واہگہ کے راستے تجارت میں تینوں ممالک اور خطے کا مفاد ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت افغانستان اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت اپنی گنجائش سے انتہائی کم ہو رہی ہے اور اگر پاکستان اور افغانستان کی حکومتیں اپنے دعوے کے مطابق دو طرفہ تجارت کے حجم کو دو ہزار اٹھارہ تک پانچ ارب ڈالر پر لے جانا چاہتی ہیں تو انہیں دیگر راستوں کے ساتھ ساتھ واہگہ کے راستے تجارت کو فروغ دینا ہو گا۔