1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تعاون میں کسی کی جیت یا ہار نہیں، احمدی نژاد

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے عالمی طاقتوں پر زور دیا ہے کہ وہ جوہری مذاکرات کے معاملے میں محاذ آرائی کے بجائے تعاون کا انتخاب کریں۔

default

ایرانی صدر نے یہ بات ترکی کے شہر استنبول میں دس ملکی اقتصادی تعاون کی تنظیم کے اجلاس کے موقع پر کہی۔

اس اجلاس میں میزبان ترکی سمیت پاکستان، افغانستان، آذر بائیجان، ایران، قازقستان، کرغیزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے سربراہان مملکت نے شرکت کی۔ عراق کے صدر جلال طالبانی بطور مہمان اجلاس میں شریک ہوئے۔

Tehran Iran Ahmadinejad Ahmadinedschad Rakhmon

اجلاس میں شریک تاجکستان کے صدر اموم علی راحمون، ایرانی صدر محمود احمدی نژاد اور افغان صدر حامد کرزئی

پریس کانفرنس کے دوران صدر احمدی نژاد نے امید ظاہر کی ہے اگلے ماہ استنبول میں ہونے والے جوہری مذاکرات اہم ہوں گے۔ یہ جنیوا کے بعد امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین اور روس کے ساتھ ایران کے ملتوی مذاکراتی سلسلے کا نیا آغاز ہوگا۔ ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ فریقین کو یہ پیغام بھجوایا گیا ہےکہ محاذ آرائی کو تعاون سے بدلا جائے، اس میں کسی کی شکست یا جیت والی بات نہیں۔ ان کے بقول، ’’ ہم سمجھتے ہیں کہ استنبول مذاکرات تاریخی نوعیت کے ہوں گے۔‘‘

اقوام متحدہ، امریکہ اور یورپی یونین حال ہی میں ایران پر نئی پابندیاں عائد کرچکے ہیں۔ اسے ایران کی جانب سے یورینیئم کی افزودگی نہ روکنے کا درعمل بتایا جتا ہے، جس سے خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ تہران حکومت جوہری توانائی کے علاوہ جوہری ہتھیار بھی بناسکی ہے۔ اگرچہ ایران کی جانب سے مسلسل اس خدشے کو رد کیا جاتا ہے۔

جوہری مذاکرات میں اقتصادی تعاون کی تنظیم کے حالیہ اجلاس کے میزبان ملک ترکی کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ ترک وزیر خارجہ احمد داوتگلو کا کہنا ہے کہ ان کا ملک اس تنازعے کے حل کے لئے ہر ممکن کردار ادا کرنے کو بخوشی تیار ہے۔’’ مقصد واضح ہے کہ دنیا اور خطے کوجوہری خطرے سے پاک کیا جائے۔‘‘ انقرہ حکومت سلامتی کونسل میں ایران مخالف پابندیوں کی حمایت سے بھی انکار کرچکی ہے۔

Europapolitiker Abdullah Gül

ترک صدر عبد اللہ گل

اگرچہ نیٹو میں شامل اس واحد مسلم اکثریتی ریاست کے اس مؤقف نے مغرب کو ناراض کیا تاہم ترک حکام اپنے اس مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ پابندیوں کے بجائے مذاکرات سے معاملہ سلجھایا جائے۔ ترکی کے صدر عبد اللہ گل نے دس ملکوں کی اقتصادی تعاون کی تنظیم کے افتتاحی اجلاس میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ باہمی تجارت میں مزید وسعت کو یقینی بنائے۔

اس تنظیم نے 2015ء تک باہمی تجارت کے موجودہ حجم کو 20 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ ان دس رکن ممالک کی مجموعی آبادی 400 ملین سے زیادہ جبکہ خطہ ء اراضی آٹھ ارب مربع کلومیٹر کے لگ بھگ اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM